سیاسی مخالفت کی وجہ سے مجھے کردار کشی کا سامنا کرنا پڑا مریم نواز

  کوئی ماں اپنے بچوں کو جلائو گھیرائو اور گالی گلوچ کی ترغیب نہیں دیتی، گالی گلوچ، الزام تراشی اور پگڑیاں اچھالنے کا سبق دینے والا نوجوانوں کا ہمدرد نہیں 
طلبہ کو ایک لاکھ ای بائیکس دی جائیں گی‘ ہونہار سکالر شپ سالانہ 30 ہزار سے بڑھا کر50 ہزارکردی جائے گی:وزیراعلی کا تقریب سے خطاب‘ سکالر شپ چیک دئیے 

لاہور (سپیشل رپورٹر)وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف نے کہا ہے  سیاسی مخالفت کی بنیاد پر مجھے کردار کشی کا سامنا کرنا پڑا‘ پنجاب کے طلبہ کو ایک لاکھ ای بائیکس دی جائیں گی۔ وزیر اعلیٰ مریم نوازشریف نے طلبہ کے لئے انٹر نیشنل سکالرشپ کیلئے اقدامات کرنے اور ہونہار سکالر شپ سالانہ 30 ہزار سے بڑھا کر50 ہزارکرنے کا اعلان بھی کیا۔ فاسٹ یونیورسٹی میں ہونہار سکالر شپ پروگرام کی تقریب میں وزیر اعلیٰ مریم نوازشریف نے طلبہ سے وطن کے خلاف کچھ نہ کرنے، چھوڑکر نہ جانے اور خدمت کرنے کا عہد بھی لیا۔ وزیر اعلیٰ مریم نوازشریف نے فاسٹ یونیورسٹی اسلام آبادمیں ہونہار سکالر شپ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اپنے بچے ملک سے باہر اور دوسروں کے بچے جیل میں یہ کہاں کی لیڈر شپ ہے؟۔کوئی ماں اپنے بچوں کو جلاؤ گھیراؤ،توڑ پھوڑ اور مار پیٹ کا درس نہیں دے سکتی۔ بچوں کو گالم گلوچ الزام تراشی سیکھانے والے ان کے ہمدرد نہیں ہوسکتے۔کسی کو گالی دینا اخلاقیات نہیں۔نوجوان نسل وطن عزیزکے خلاف کوئی بھی کام نہ کرنے کا عہد کرے۔مخالفین کا شکریہ جنہوں نے درشتگی کرکے اتنا مضبوط بنا دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ مخالفین کا مجھے شکریہ ادا کرناچاہیے جنہوں نے آج مجھے سٹرانگ بنا دیا۔بعض مخالفین کو تکلیف ہے کہ بچوں کو سکالر شپ کیوں مل رہے ہیں۔ صرف راولپنڈی ڈویژن سے 2500طلبہ کو ہوہونہار سکالر شپ ملا۔وزیر اعلیٰ مریم نوازشریف نے کہا کہ بچوں کے اندر خودداری ہوتی ہے وہ اپنے ماں پاب پر بوجھ نہیں بننا چاہتے۔اپنے بچوں اپنے بیٹوں سے کہوں گی کہ ماں، بہنوں اور بیٹیوں کی عزت کرنا آپ کی ذمہ داری ہے۔جیل برداشت کی، عدالتوں میں دھکے کھائے،سیاسی آگ کی بھٹی میں گزرکر سخت ہوچکی ہوں۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی مخالفت کی بنا پر عورت ہونے کے باوجود کردار کشی کی جاتی رہی۔ سات آٹھ سال بعد اکانومی میں بہتری آرہی ہے۔ ہم نے ٹیک آور کیا تو ڈیفالٹ کی آوازیں آرہی تھیں، اب اچھی خبریں آنا شروع ہوگئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اب آپ کا پیسہ آپ کی تعلیم پر خر چ ہوگا۔ اگر امیر کا بچہ فاسٹ اورنسٹ یونیورسٹی میں جا سکتا تو غریب کا بچہ کیوں نہ جائے۔ 60فیصدطالبات سکالرشپ ملنے پر خوش ہیں