بنبھور کا تاریخی ورثہ انتہائی قیمتی، اس کا تحفظ لازمی ہے – اٹالین ایمبیسیڈر مارلینا آرمِلین

بنبھور کا تاریخی ورثہ انتہائی قیمتی، اس کا تحفظ لازمی ہے – اٹالین ایمبیسیڈر مارلینا آرمِلین

اسلام آباد میں متعین اٹلی کی ایمبیسیڈر مارلینا آرمِلین نے کراچی، بنبھور اور مکلی کا دورہ کیا اور سندھ کے قدیم آثارِ قدیمہ کا مشاہدہ کیا۔

اس دوران ان کے ہمراہ اٹلی کے نائب قونصل جنرل اور دیگر اہلکار بھی سندھ کے تاریخی مقامات کی سیر کے لیے گئے۔ ایمبیسیڈر اور مہمانوں نے پاکستانی آرکیالوجسٹوں کے ساتھ مل کر کام کرنے والے ماہرین سے ملاقات کی اور سندھ کے قدیم آثارِ قدیمہ پر بریفنگ حاصل کی۔ بنبھور میں پاکستانی آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے اہلکاروں نے ایمبیسیڈر کو آثارِ قدیمہ کے بارے میں آگاہ کیا۔ مکلی نیکروپولس کو یونیسکو نے عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا ہے، اور پاکستانی حکام نے اس کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ ایمبیسیڈر مارلینا آرمِلین نے شاہ جہاں مسجد ٹھٹہ کے تاریخی پس منظر کے بارے میں بھی معلومات لیں اور بنبھور کے آثار کے تحفظ میں گہری دلچسپی ظاہر کی۔

انہوں نے کہا کہ سندھ کے آثارِ قدیمہ اور تہذیبیں ان پر بہت اثرانداز ہوئی ہیں، اور بھمبھور کے محفوظ ڈھانچے ماضی کی عظمت کی جھلک ہیں۔ ایمبیسیڈر نے سندھ کے تاریخی ورثے کی حفاظت کو نہایت اہم قرار دیا اور پاکستانی اور اطالوی ماہرین کے مشترکہ کام کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ بنبھور کا تاریخی ورثہ قیمتی ہے اور اس کا تحفظ ضروری ہے۔ مارلینا آرمِلین نے سندھ کے آثارِ قدیمہ اور تہذیب کے آثار کو پُرامن اور متاثر کن قرار دیتے ہوئے، پاک-اطالوی ماہرین کے تعاون کو قابلِ ستائش بتایا۔