حافظ محمد اقبال
پنجاب میں وزیر اعلیٰ مریم نواز ایک ایسا منصوبہ شروع کرنے جا رہی ہیں جس کے معیشت ، معاشرت پر مثبت اثرات مرتب ہونگے، وزیر اعلیٰ کا دیہات میں بائیو گیس منصوبے کا اعلان بظاہر ایک سادہ حکومتی اقدام محسوس ہوتا ہے، مگر حقیقت میں یہ دیہی معیشت، ماحولیات اور روزمرہ زندگی میں ایک بڑی تبدیلی کی بنیاد بن سکتا ہے۔ تین ارب روپے کی لاگت سے 25 ماڈل دیہات میں بائیو گیس پلانٹس کی تنصیب اور گوبر کولیکشن پوائنٹس کا قیام ایک ایسا مربوط نظام متعارف کروانے کی کوشش ہے جو صفائی، توانائی اور مقامی معیشت کو ایک ہی دائرے میں لے آتا ہے۔ دیہات میں پہلی بار باقاعدہ انداز میں گوبر اکٹھا کرنے کا نظام نہ صرف گندگی کے خاتمے میں مدد دے گا بلکہ اسی فضلے کو قیمتی توانائی میں تبدیل کر کے ایک نئی معاشی سرگرمی کو جنم دے گا۔بائیو گیس بنیادی طور پر نامیاتی فضلے، خصوصاً جانوروں کے گوبر اور زرعی باقیات سے حاصل کی جاتی ہے۔ پنجاب جیسے زرعی صوبے میں جہاں مویشیوں کی بڑی تعداد موجود ہے، وہاں یہ ذریعہ توانائی نہایت موزوں ہے۔ عام طور پر دیہات میں گوبر کھلے میدانوں یا گلیوں میں پڑا رہتا ہے جس سے بدبو، مکھیاں اور بیماریوں کا پھیلاؤ بڑھتا ہے۔ اگر یہی گوبر باقاعدہ کولیکشن پوائنٹس کے ذریعے بائیو گیس پلانٹس تک پہنچے تو نہ صرف ماحول صاف ہوگا بلکہ اس سے حاصل ہونے والی گیس گھریلو استعمال کے لیے سستی اور قابل اعتماد توانائی فراہم کرے گی۔اس منصوبے کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ تیار کردہ گیس کو کمپریس کر کے سلنڈرز میں فروخت کیا جائے گا اور دیہات میں سیل پوائنٹس بھی قائم کیے جائیں گے۔ مزید یہ کہ گھروں تک سلنڈرز کی ترسیل کا نظام بھی متعارف کروایا جا رہا ہے۔ یہ اقدام دیہاتی علاقوں میں پہلی بار ایک منظم توانائی سپلائی چین قائم کرے گا جو کسی حد تک شہری علاقوں کے گیس نظام کی طرز پر ہوگی۔ ویلیج آرگنائزیشن کمیٹیوں کو اس نظام کی ذمہ داری دینا ایک مثبت قدم ہے کیونکہ اس سے مقامی سطح پر ملکیت اور ذمہ داری کا احساس پیدا ہوگا اور روزگار کے مواقع بھی میسر آئیں گے۔
اگر فوائد کی بات کی جائے تو بائیو گیس کے کئی پہلو نمایاں ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ ایک ماحول دوست توانائی ہے جو کاربن کے اخراج میں کمی لاتی ہے۔ لکڑی، کوئلہ یا دیگر روایتی ایندھن کے مقابلے میں بائیو گیس جلنے پر کم دھواں پیدا کرتی ہے، جس سے فضائی آلودگی میں کمی آتی ہے۔ دیہات میں خواتین عموماً چولہا جلانے کے دوران دھوئیں کا سامنا کرتی ہیں جس سے آنکھوں اور پھیپھڑوں کی بیماریاں جنم لیتی ہیں۔ بائیو گیس کے استعمال سے یہ مسئلہ بڑی حد تک حل ہو سکتا ہے۔دوسرا بڑا فائدہ معاشی ہے۔ جب گیس مقامی سطح پر تیار ہو گی تو ایندھن پر آنے والے اخراجات میں کمی آئے گی۔ لکڑی یا ایل پی جی سلنڈرز خریدنے کی ضرورت کم ہو جائے گی، جس سے گھریلو بجٹ پر مثبت اثر پڑے گا۔ مزید برآں، گوبر کی خرید و فروخت ایک نئی معاشی سرگرمی بن سکتی ہے۔ کسان اور مویشی پال حضرات اپنے جانوروں کے فضلے کو بیچ کر اضافی آمدنی حاصل کر سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ بائیو گیس پلانٹس سے نکلنے والی باقیات بہترین نامیاتی کھاد کے طور پر استعمال ہو سکتی ہیں، جس سے زرعی پیداوار میں اضافہ ممکن ہے اور کیمیائی کھادوں پر انحصار کم ہوگا۔تیسرا اہم فائدہ صفائی کے نظام میں بہتری ہے۔ دیہات میں گندگی ایک بڑا مسئلہ ہے جہاں گوبر اور دیگر فضلہ کھلے عام پڑا رہتا ہے۔ جب کولیکشن پوائنٹس قائم ہوں گے تو صفائی کا ایک باقاعدہ نظام تشکیل پائے گا، جس سے بیماریوں کے پھیلاؤ میں کمی آئے گی اور مجموعی صحت کے حالات بہتر ہوں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی آلودگی بھی کم ہوگی اور دیہات کا منظر زیادہ صاف اور خوشگوار بنے گا۔
تاہم اس منصوبے کے کچھ چیلنجز اور نقصانات بھی ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ سب سے بڑا مسئلہ ابتدائی لاگت کا ہے۔ اگرچہ حکومتی سطح پر سرمایہ کاری کی جا رہی ہے، مگر اس نظام کو چلانے، برقرار رکھنے اور وسعت دینے کے لیے مسلسل مالی وسائل درکار ہوں گے۔ اگر فنڈنگ میں کمی ہوئی یا منصوبہ ادھورا رہ گیا تو اس کے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکیں گے۔دوسرا اہم مسئلہ تکنیکی مہارت کا ہے۔ بائیو گیس پلانٹس کو چلانے اور برقرار رکھنے کے لیے تربیت یافتہ افراد کی ضرورت ہوتی ہے۔ دیہات میں عموماً اس قسم کی مہارت کی کمی ہوتی ہے، جس کے باعث پلانٹس خراب ہونے یا غیر فعال ہونے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ اگر بروقت مرمت اور دیکھ بھال نہ کی گئی تو منصوبہ ناکامی کا شکار ہو سکتا ہے۔تیسرا چیلنج خام مال کی مسلسل فراہمی ہے۔ بائیو گیس پلانٹس کے لیے روزانہ کی بنیاد پر گوبر اور دیگر نامیاتی فضلے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر کسی وجہ سے یہ سپلائی متاثر ہوئی تو گیس کی پیداوار بھی کم ہو جائے گی۔ اس کے علاوہ موسم کا اثر بھی ایک حقیقت ہے، سردیوں میں بائیو گیس کی پیداوار کم ہو جاتی ہے جس سے گیس کی دستیابی متاثر ہو سکتی ہے۔
دیہاتی زندگی پر اس منصوبے کے اثرات مجموعی طور پر مثبت دکھائی دیتے ہیں۔ سب سے بڑا اثر خواتین کی زندگی پر پڑے گا جو روزانہ لکڑی اکٹھی کرنے اور چولہا جلانے میں وقت صرف کرتی ہیں۔ بائیو گیس کی دستیابی سے ان کی یہ مشقت کم ہو جائے گی، جس سے وہ وقت کو دیگر گھریلو یا معاشی سرگرمیوں میں استعمال کر سکیں گی۔ بچوں کی صحت پر بھی مثبت اثر پڑے گا کیونکہ صاف ایندھن کے استعمال سے دھوئیں کے نقصانات کم ہوں گے۔مزید برآں، دیہات میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ گوبر کولیکشن، پلانٹس کی دیکھ بھال، سلنڈرز کی ترسیل اور سیل پوائنٹس کے قیام سے مقامی افراد کو کام ملے گا، جس سے دیہی معیشت مضبوط ہوگی۔ یہ منصوبہ اگر کامیابی سے چلتا ہے تو مستقبل میں مزید دیہات تک پھیلایا جا سکتا ہے، جس سے ایک وسیع پیمانے پر تبدیلی ممکن ہے۔آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ پنجاب میں بائیو گیس کا یہ منصوبہ صرف ایک توانائی منصوبہ نہیں بلکہ ایک ہمہ جہت ترقیاتی اقدام ہے جو صفائی، معیشت اور ماحولیات کو یکجا کرتا ہے۔ اس کے فوائد واضح اور دیرپا ہیں، تاہم کامیابی کا دارومدار مؤثر عملدرآمد، مستقل نگرانی اور مقامی سطح پر شمولیت پر ہے۔ اگر ان پہلوؤں کو سنجیدگی سے لیا جائے تو یہ منصوبہ دیہات کی تقدیر بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور پاکستان کے توانائی بحران کے حل میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔