ندیم ملک
پاکستان میں مہنگائی کا جن پہلے ہی بے قابو ہے۔ آٹا، چینی، گھی، بجلی، پٹرول اور ادویات کی قیمتوں نے عام آدمی کی زندگی مشکل بنا رکھی ہے، مگر اب گھروں کے چولہے جلانے کے لیے استعمال ہونے والی ایل پی جی گیس بھی عوام کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہے۔ صورتِ حال یہ ہے کہ غریب اور متوسط طبقے کے خاندانوں کے لیے کھانا پکانا بھی ایک مہنگا سودا بنتا جا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر ایل پی جی گیس ہے یا سونا؟ اس کی قیمتوں میں اضافے نے عوام کو اس قدر پریشان کیوں کر رکھا ہے اور حکومت اس اہم مسئلے پر مؤثر اقدامات کرنے میں کیوں ناکام دکھائی دیتی ہے؟
پاکستان کے ایسے لاکھوں گھرانے ہیں جہاں قدرتی گیس کی سہولت دستیاب نہیں۔ کہیں گیس کی پائپ لائن موجود نہیں اور کہیں پریشر کی کمی کے باعث گھریلو ضروریات پوری کرنا ممکن نہیں رہتا۔ ایسے علاقوں میں ایل پی جی ہی کھانا پکانے کا بنیادی ذریعہ ہے۔ دیہی آبادیوں، چھوٹے شہروں، پہاڑی علاقوں اور شہری آبادیوں کے ان حصوں میں جہاں قدرتی گیس دستیاب نہیں، لوگوں کے لیے ایل پی جی کوئی آسائش نہیں بلکہ بنیادی ضرورت ہے۔ اس کے باوجود اس کی قیمتوں میں اضافے نے عوام کے لیے مشکلات کا ایک نیا دروازہ کھول دیا ہے
ایک مزدور، رکشہ ڈرائیور، دیہاڑی دار یا محدود تنخواہ پر گزارا کرنے والا ملازم جب مہینے کے اخراجات کا حساب لگاتا ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ آمدنی وہی ہے مگر ضروریات پوری کرنے کے لیے درکار رقم مسلسل بڑھ رہی ہے۔ بچوں کی تعلیم، گھر کا کرایہ، بجلی کے بل، خوراک اور علاج معالجے کے اخراجات پہلے ہی اس کی قوتِ خرید کو محدود کر چکے ہیں۔ ایسے میں اگر گیس کی قیمت بھی بڑھ جائے تو اس کے پاس بچت کے لیے بہت کم گنجائش رہ جاتی ہے۔ بالآخر وہ اپنی ضروریات کم کرنے، قرض لینے یا کسی نہ کسی طرح گزارا کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے
حکومتیں عوام کو ریلیف دینے کے دعوے کرتی ہیں، مگر اصل ریلیف وہ ہوتا ہے جو عام آدمی کو بازار میں نظر آئے۔ اگر سرکاری سطح پر قیمتیں مقرر کی جائیں لیکن بازار میں ان پر عمل درآمد یقینی نہ بنایا جا سکے تو محض نوٹیفکیشن جاری کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ ایل پی جی کے معاملے میں بھی بنیادی سوال یہی ہے کہ متعلقہ ادارے قیمتوں کی نگرانی کس حد تک کر رہے ہیں اور اگر صارفین سے مقررہ نرخ سے زیادہ رقم وصول کی جا رہی ہے تو اس کے تدارک کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟
ایل پی جی کی قیمتوں پر عالمی منڈی کے نرخ، درآمدی اخراجات، روپے کی قدر، ٹیکس اور نقل و حمل کے اخراجات اثر انداز ہوتے ہیں۔ ان حقائق سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ قیمتوں کے نظام کو شفاف بنانا، ناجائز منافع خوری کی روک تھام کرنا اور صارفین کو مقررہ وزن کے مطابق گیس فراہم کرنا حکومت اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے۔ عالمی منڈی میں قیمت بڑھنے کا مطلب یہ نہیں کہ مقامی سطح پر نگرانی کا نظام غیر مؤثر ہو جائے یا صارفین کو ہر قسم کی من مانی قیمت ادا کرنے پر چھوڑ دیا جائے
آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، وزارتِ توانائی اور ضلعی انتظامیہ کو اس صورتِ حال کا سنجیدگی سے جائزہ لینا چاہیے۔ اگر ایل پی جی کی قیمت مقرر کرنے کا اختیار متعلقہ ریگولیٹری ادارے کے پاس ہے تو اس قیمت پر عمل درآمد یقینی بنانا بھی ضروری ہے۔ بازاروں میں سرکاری نرخ نمایاں طور پر آویزاں کیے جائیں، گیس کے سلنڈروں کا وزن باقاعدگی سے چیک کیا جائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ صارفین کو یہ سہولت بھی حاصل ہونی چاہیے کہ وہ زائد قیمت یا کم وزن کی شکایت آسانی سے درج کرا سکیں اور ان کی شکایت پر بروقت کارروائی ہو
یہاں ایک اور اہم پہلو بھی توجہ طلب ہے۔ ایل پی جی کے کاروبار میں قیمت کے ساتھ ساتھ سلنڈروں کے معیار اور حفاظت کا معاملہ بھی انتہائی اہم ہے۔ غیر معیاری سلنڈر، ناقص والوز اور غیر محفوظ طریقے سے گیس کی بھرائی انسانی جانوں کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ متعلقہ حکام قیمتوں کی نگرانی کے ساتھ حفاظتی ضوابط پر بھی سختی سے عمل درآمد کرائیں۔ عوام کو سستی گیس کی ضرورت ضرور ہے، مگر ایسی گیس کی فراہمی بھی اتنی ہی ضروری ہے جس کے استعمال سے ان کی جان و مال محفوظ رہیں
حکومت کو یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ ملک میں ایل پی جی کی پیداوار، درآمد اور تقسیم کے نظام میں بہتری کی کیا گنجائش موجود ہے۔ اگر مقامی پیداوار میں اضافے، سپلائی چین میں رکاوٹیں کم کرنے اور منصفانہ مسابقت کے ذریعے صارفین کو ریلیف دیا جا سکتا ہے تو ان امکانات پر عملی کام ہونا چاہیے۔ اسی طرح قیمتوں کے تعین میں شامل اخراجات کی تفصیل عام شہریوں کے سامنے رکھی جائے تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجوہات کیا ہیں۔ شفاف نظام سے نہ صرف عوام کا اعتماد بڑھے گا بلکہ غیر ضروری منافع خوری کی نشاندہی بھی آسان ہو گی
کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے ہدفی ریلیف کی پالیسی بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ حکومت کے لیے ممکن ہے کہ ہر شہری کو یکساں سبسڈی دینا مالی طور پر آسان نہ ہو، لیکن مستحق خاندانوں کی شناخت کرکے انہیں محدود اور مؤثر معاونت فراہم کی جا سکتی ہے۔ اس مقصد کے لیے پہلے سے موجود سماجی تحفظ کے نظام کو استعمال کیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ امداد شفاف طریقے سے حقیقی مستحقین تک پہنچے۔ ایک غریب گھرانے کے لیے گیس کی قیمت میں معمولی کمی بھی اہم ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ اس کے ماہانہ بجٹ میں ہر بچنے والا روپیہ کسی دوسری بنیادی ضرورت پر خرچ ہو سکتا ہے
اس مسئلے پر میڈیا، صارفین کی تنظیموں اور عوامی نمائندوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ صرف قیمت بڑھنے کی خبر دینا ہی کافی نہیں، یہ بھی دیکھا جانا چاہیے کہ سرکاری نرخوں پر عمل درآمد ہو رہا ہے یا نہیں، عوام کی شکایات کا ازالہ کیا جا رہا ہے یا نہیں اور متعلقہ اداروں کی کارروائی کے نتائج کیا ہیں۔ عوامی مسائل کو مسلسل اجاگر کرنا ہی ان کے حل کی جانب پیش رفت کا راستہ ہموار کر سکتا ہے
حکومت کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ مہنگائی کا اثر صرف اعداد و شمار میں نہیں لوگوں کی روزمرہ زندگی میں ظاہر ہوتا ہے۔ جب ایک خاندان اپنے بچوں کے لیے کھانا تیار کرنے کی بنیادی ضرورت پوری کرنے میں مشکلات کا شکار ہو تو یہ محض بازار کی قیمت کا معاملہ نہیں رہتا، بلکہ عوامی فلاح، معاشی انصاف اور حکومتی ترجیحات کا سوال بن جاتا ہے۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کے لیے بنیادی ضروریات کی فراہمی کو ممکن بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے اور انہیں ناجائز منافع خوری کے رحم و کرم پر نہ چھوڑے
ایل پی جی کی قیمتوں کا مسئلہ کسی ایک محکمے یا ایک فیصلے سے حل نہیں ہو گا، لیکن مؤثر نگرانی، شفاف قیمتوں کے تعین، مناسب سپلائی، قانون پر عمل درآمد اور مستحق گھرانوں کے لیے ہدفی ریلیف کے ذریعے صورتِ حال میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت بیانات اور رسمی کارروائیوں سے آگے بڑھ کر ایسے اقدامات کرے جن کے نتائج عوام کو براہِ راست محسوس ہوں
بقول ساغر صدیقی
جس عہد میں لٹ جائے فقیروں کی کمائی
اس عہد کے سلطان سے کچھ بھول ہوئی ہے
آج کل پاکستان میں تاجر بھی فقیر ہے،اور فقیر بھی فقیر ہی ہے ہر (ہر کسی کی منجھی میں ڈانگ پھیری جا رہی ہے)بہ ہر حال حکومت پاکستان سے میرا سوال ہے ایل پی جی گیس ہے یا سونا؟ اگر یہ عام شہری کی بنیادی ضرورت ہے تو اس کی قیمتیں عوام کی قوتِ خرید کو سامنے رکھ کر زیرِ بحث کیوں نہیں آتیں؟ حکومت عالمی منڈی کے حالات کو مکمل طور پر کنٹرول نہیں کر سکتی، لیکن مقامی بازار میں ناجائز منافع خوری روکنا، مقررہ نرخوں پر عمل درآمد کرانا اور کم آمدنی والے گھرانوں کو ریلیف دینا اس کی ذمہ داری ضرور ہے۔ عوام کو محض وعدوں کی نہیں، عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ جس ملک میں غریب آدمی کے لیے چولہا جلانا مشکل ہو جائے، وہاں معاشی ترقی کے دعووں کے ساتھ عوام کی روزمرہ مشکلات کا ازالہ بھی ناگزیر ہو جاتا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ ایل پی جی کی قیمتوں اور فراہمی کے نظام کا فوری جائزہ لے، مؤثر نگرانی یقینی بنائے اور عوام کو اس بنیادی ضرورت کے حصول میں حقیقی ریلیف فراہم کرے