سردیوں میں گیس کا متوقع بحران

رفیع صحرائی
سردیوں کی آمد سے قبل ہی گیس کے بحران کی دستک سنائی دینے لگی ہے۔ اطلاعات کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث بحری راستوں میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے نتیجے میں قطر سے ایل این جی کی سپلائی بحال نہ ہوئی تو پاکستان کو آنے والے موسمِ سرما میں گیس کی طلب پوری کرنے کے لیے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایک خبر کے مطابق وزارتِ پٹرولیم نے اس صورتحال کے پیش نظر ونٹر گیس پلان پر کام شروع کر دیا ہے اور قطر سے سپلائی بحال نہ ہونے کی صورت میں مہنگے اسپاٹ کارگو منگوانے کی تجویز زیرِ غور ہے۔ دوسرے لفظوں میں پاکستانیوں کو مزید مہنگی گیس خریدنے کی تیاری کر لینی چاہیے۔ موجودہ صورتِ حال میں بھی حکومتی ریٹ جو بھی ہو گیس 500 سے 550 روپے فی کلو فروخت ہو رہی ہے اور حکومت کی پیرا فورس سمیت پرائس کنٹرول کے تمام ادارے گیس کی قیمت کنٹرول کرنے میں ناکام نظر آتے ہیں۔ 
سردی میں گیس کی ممکنہ قلت کی خبر محض خبر نہیں بلکہ پاکستان کی توانائی پالیسی کے کئی بنیادی سوالات کو سامنے لاتی ہے۔ سردیوں میں جب گھروں میں گیس کی طلب بڑھ جاتی ہے، صنعت کو توانائی درکار ہوتی ہے، بجلی کی پیداوار کے لیے بھی گیس کی ضرورت پیش آتی ہے اور شہری آبادی کا انحصار گھریلو ایندھن پر بڑھ جاتا ہے، ایسے میں گیس کی معمولی قلت بھی زندگی کے کئی شعبوں کو متاثر کر سکتی ہے۔
خبر کے مطابق پاکستان سردیوں میں گیس کی قلت کا تقریباً 40 فیصد حصہ ایل این جی کے ذریعے پورا کرتا ہے۔ اگر قطر سے طویل المدتی معاہدے کے تحت آنے والی ایل این جی کی سپلائی متاثر ہوتی ہے تو متبادل کے طور پر اسپاٹ کارگو خریدنا پڑ سکتا ہے۔ مگر اصل مسئلہ اس کی قیمت ہے۔ بتایا گیا ہے کہ قطری ایل این جی طویل المدتی معاہدے کے تحت تقریباً 13 سے 16 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو میں پڑتی ہے جبکہ اسپاٹ کارگو کی قیمت تقریباً 30 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو تک پہنچ سکتی ہے۔ یعنی متبادل انتظام نہ صرف مشکل بلکہ خاصا مہنگا بھی ہوگا۔ دوسرے لفظوں میں گیس کی قیمت 1000 روپے کلوتک بھی پہنچ سکتی ہے۔
گیس خریداری کے لیے حکومت کے پاس یہ اضافی رقم کہاں سے آئے گی؟ ظاہر ہے، حکومت کے پاس پیسہ آسمان سے نہیں آتا۔ اگر ایل این جی مہنگی خریدی جائے گی تو اس کی قیمت کسی نہ کسی شکل میں قومی خزانے، توانائی کے شعبے یا صارفین کو ادا کرنا ہوگی۔ اگر حکومت سبسڈی دے گی تو بجٹ پر بوجھ بڑھے گا، اگر قیمت صارفین کو منتقل کی جائے گی تو پہلے سے مہنگائی کے ہاتھوں پریشان عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا اور اگر قیمت پوری طرح منتقل نہ کی گئی تو گیس کے شعبے کے گردشی قرضے میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ حکومت کو صرف ’’گیس کا بندوبست‘‘ کرنے کے بجائے ایک وسیع تر حکمتِ عملی اختیار کرنا ہوگی۔
پاکستان میں توانائی کا بحران کوئی نئی چیز نہیں۔ کبھی بجلی کی قلت، کبھی گیس کا بحران، کبھی پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ اور کبھی ایل این جی کی مہنگی خریداری ہمارے قومی مباحث کا حصہ بنتی رہتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم ہر سال بحران آنے کے بعد اس کا حل تلاش کیوں کرتے ہیں؟ موسمِ سرما کوئی اچانک آنے والی قدرتی آفت نہیں۔ اس کی آمد کا ہمیں کئی ماہ پہلے علم ہوتا ہے۔ گیس کی طلب کا اندازہ بھی لگایا جا سکتا ہے، صنعتی ضروریات معلوم ہوتی ہیں، گھریلو استعمال کا تخمینہ موجود ہوتا ہے اور ایل این جی کی ضرورت بھی پہلے سے طے کی جا سکتی ہے۔ پھر آخری وقت میں مہنگے متبادل تلاش کرنے کی نوبت کیوں آتی ہے؟
یہ بھی حقیقت ہے کہ قطر کے ساتھ طویل المدتی ایل این جی معاہدوں نے پاکستان کو عالمی مارکیٹ میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ سے کسی حد تک تحفظ فراہم کیا ہے۔ لیکن کسی ایک ذریعے یا ایک خطے پر ضرورت سے زیادہ انحصار بھی دانشمندانہ حکمتِ عملی نہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ صورتحال نے یہ حقیقت مزید واضح کر دی ہے کہ عالمی سیاست، جنگیں اور بحری راستوں کی بندش اب براہِ راست ہماری گھریلو معیشت اور باورچی خانے کے چولہے کو متاثر کر سکتی ہیں۔ اس لیے پاکستان کو اپنی توانائی پالیسی میں تنوع پیدا کرنا ہوگا۔ ایل این جی کے ساتھ مقامی گیس کی تلاش، قابلِ تجدید توانائی، شمسی اور ہوا سے بجلی کی پیداوار، پن بجلی، توانائی کی بچت اور گیس کے مؤثر استعمال کو قومی منصوبہ بندی کا حصہ بنانا ہوگا۔ صرف درآمدی ایندھن پر انحصار بڑھاتے جانا کسی بھی ملک کے لیے مستقل حل نہیں ہو سکتا۔
سب سے اہم سوال عام صارف کا ہے۔ پہلے ہی بجلی کے بھاری بل، پٹرول کی قیمتیں، مہنگائی، ٹیکسوں اور گھریلو اخراجات نے متوسط اور غریب طبقے کی کمر توڑ رکھی ہے۔ اگر سردیوں میں گیس کی قیمت یا ایل این جی کی اضافی لاگت بھی صارفین پر منتقل کی گئی تو اس کے اثرات صرف گیس کے بل تک محدود نہیں رہیں گے۔ صنعت کی پیداواری لاگت بڑھے گی، کاروبار مہنگا ہوگا، ٹرانسپورٹ اور اشیائے ضروریہ کی قیمتیں متاثر ہوں گی اور یوں مہنگائی کا ایک نیا چکر شروع ہو سکتا ہے۔
حکومت کو یہ بھی یقینی بنانا ہوگا کہ گیس کی قلت کو جواز بنا کر ناجائز منافع خوری، ذخیرہ اندوزی یا مصنوعی بحران پیدا کرنے کی کوشش نہ ہو۔ توانائی کے بحران کے دوران شفافیت سب سے زیادہ ضروری ہوتی ہے۔
سردیوں کا گیس بحران ابھی آیا نہیں، صرف اس کا خدشہ سامنے آیا ہے۔ یہی اس معاملے کا مثبت پہلو ہے۔ حکومت کے پاس اب بھی وقت ہے کہ وہ بروقت فیصلے کرے، متبادل انتظام مکمل کرے اور عوام کو اچانک کسی نئے معاشی جھٹکے سے محفوظ رکھے۔ مہنگا اسپاٹ کارگو خریدنا شاید فوری ضرورت پوری کر دے، مگر اسے مستقل پالیسی کا متبادل نہیں بنایا جا سکتا۔ پاکستان کو اب ’’بحران آنے دو، پھر حل تلاش کرو‘‘ کی روش سے نکلنا ہوگا۔