ٹھیٹر کی تباہی کی وجہ فحاشی ہے

اظہر اقبال حاذق 

پاکستانی تھیٹر جو کبھی فن، تفریح، معاشرتی شعور اور اخلاقی تربیت کا ایک مؤثر ذریعہ سمجھا جاتا تھا، آج کل زوال کا شکار ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ تھیٹر، جو عوام کی اصلاح اور تفریح کا متوازن امتزاج ہوا کرتا تھا، اب رفتہ رفتہ اخلاقی گراوٹ، فحاشی اور سطحی جگت بازی کا نمائندہ بنتا جا رہا ہے۔ اس صورت حال نے نہ صرف سنجیدہ فنکاروں کو مایوس کیا ہے بلکہ معاشرے میں فنونِ لطیفہ کے وقار کو بھی داغدار کیا ہے۔حالیہ دنوں عظمیٰ بخاری کی جانب سے سٹیج پر کیے جانے والے چھاپے نے ایک بار پھر تھیٹر کی دنیا میں جاری بے راہ روی کو بے نقاب کر دیا۔ بعض حلقوں کی جانب سے اس اقدام پر تنقید کی گئی، مگر درحقیقت یہ ایک جرات مندانہ قدم تھا جو قابلِ تحسین ہے۔ کیونکہ سٹیج پر جو کچھ ہو رہا ہے، وہ صرف "تفریح" کے نام پر معاشرتی بگاڑ کو فروغ دے رہا ہے۔ نیم برہنہ رقص، اخلاق سے گری ہوئی جگتیں، خواتین کو محض جسمانی نمائش تک محدود کر دینا، اور رشتوں کے تقدس کا مذاق اڑانا، ان تمام عناصر نے تھیٹر کو ایک غیراخلاقی کاروبار بنا دیا ہے۔حکومت جب تھیٹر کی اجازت دیتی ہے تو وہ اس مفروضے پر دیتی ہے کہ تھیٹر ایک مہذب، ثقافتی اور تخلیقی سرگرمی ہو گی، نہ کہ ایک بازاری تماشہ۔ حکومت نہ تو بے ہودہ الفاظ کی اجازت دیتی ہے، نہ نیم عریاں لباس کی، اور نہ ہی ایسے مواد کی جو معاشرے میں بے حیائی کو فروغ دے۔ سوال یہ ہے کہ اگر کوئی ادارہ ان حدود کو پامال کرتا ہے، تو کیا ریاست خاموش تماشائی بن کر بیٹھی رہے؟ کیا ایسے عناصر کو کھلی چھوٹ دینا معاشرتی ذمے داری کا تقاضا ہے؟اس تمام منظرنامے میں ایک مخصوص ٹولہ ایسا بھی ہے جو تھیٹر کے نام پر صرف اپنی عیاشی، لذت پرستی اور مالی مفادات کی خاطر اس ادارے کو استعمال کر رہا ہے۔ یہ لوگ نہ فنکار ہیں، نہ محبِ فن۔ یہ محض چند لفنگے، آوارہ منش افراد ہیں جنہوں نے تھیٹر کو بدنام کر کے رکھ دیا ہے۔ ان کی موجودگی نہ صرف فن کے معیار کو گرا رہی ہے بلکہ نئے آنے والے باصلاحیت فنکاروں کی حوصلہ شکنی بھی کر رہی ہے۔یہ انتہائی افسوسناک امر ہے کہ خواتین فنکاراؤں کو بھی مجبوراً ایسے لباس پہننے پڑتے ہیں، ایسے مکالمے بولنے پڑتے ہیں، جو ان کی عزتِ نفس کو مجروح کرتے ہیں۔ یہ نہ فن ہے، نہ تفریح؛ بلکہ یہ محض جنس پرستی کے گرد گھومتی ایک بازاری حرکات کی قطار ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ تھیٹر کو دوبارہ اس کے اصل مقصد کی طرف لایا جائے۔ فن کو عزت دی جائے، فنکار کو وقار دیا جائے، اور اس اسٹیج کو اصلاحِ معاشرہ کے ایک مؤثر پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کیا جائے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ نہ صرف مسلسل مانیٹرنگ کا نظام بنائے بلکہ اخلاقی و ثقافتی اصولوں پر پورا نہ اترنے والے تھیٹرز پر فوری ایکشن لے۔ ایسے چھاپے اگر تسلسل سے مارے جائیں تو وہ عناصر جو فن کے نام پر فحاشی بیچ رہے ہیں، خود بخود بے نقاب اور باہر ہو جائیں گے۔یہ وقت ہے کہ ہم سب بحیثیت قوم یہ طے کریں کہ ہمیں کیسا تھیٹر چاہیے؟ وہ جس میں نسلیں کچھ سیکھیں، یا وہ جس میں نسلیں برباد ہوں؟ عظمیٰ بخاری جیسے اقدامات اگر نیک نیتی سے جاری رہیں تو امید کی جا سکتی ہے کہ تھیٹر دوبارہ اپنی اصل روح کے ساتھ زندہ ہو گا۔ ورنہ یہ "فن" کا نام لے کر "فحاشی" کے کاروبار کا اڈہ بن کر رہ جائے گا۔