بارشوں اور سیلاب سے کب تک تباہی؟

ناہید کوثرادیب
رواں برس بھی گزشتہ برسوں کی طرح معمول سے زیادہ بارشیں ہوئیں جن کی وجہ سے  پنجاب اور خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں سیلاب سے زبردست تباہی ہوئی‘سینکڑوں مکانات اور فصلیں تباہ ہوگئیں‘کئی قیمتی جانوں کا صدمہ برداشت کرنا پڑا‘ان علاقوں کی تباہی کی خبریں الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے پوری دنیا میں دیکھی گئیں، صحافت کے عالمی اداروں نے ان واقعات کو شہ سرخیوں کا حصہ بنایا۔ ملک بھر میں غم کا سماں رہا۔ ہر پاکستانی سیلاب زدگان کے دکھ درد میں شریک ہے۔وزیراعلی پنجاب نے سیلاب متاثرہ علاقوں کے دورے کر کے متاثرین کے زخموں پر مرہم رکھنے کی بھرپور کوشش کی‘متاثرین کے لئے امدادی پیکیج کا اعلان کیا گیا‘وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے بھی متاثرہ اضلاع کی بحالی کیلئے امداد کااعلان کیا‘زمینی حقیقت یہ ہے کہ سیلاب زدگان کے گھر بہہ چکے ہیں، انہیں راشن، رہن سہن، مالی و طبی مدد کی فوری اور اشد ضرورت ہے۔ فلاحی اداروں کے وسائل محدود ہیں، لہٰذا وہ ایک حد سے زیادہ مدد نہیں کرسکتے۔ یہ حکومت کی ذمے داری ہے کہ وہ متاثرین کی ہر ممکن مدد کو یقینی بنائے۔
سائنسی اعتبار سے سیلاب آنے کی وجہ گلوبل وارننگ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ زمین کا درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے جس کے نتیجے میں گلیشیئر کے پھٹنے یا پگھلنے سے سیلاب آتے ہیں۔ اس کے علاوہ شدید اور غیر رسمی بارشیں بھی سیلاب کا باعث بنتی ہیں۔حالیہ سیلابی ریلے بھی زیادہ بارشوں کا نتیجہ ہیں اور جو نقصانات ہوئے ہیں،یہ ہماری نااہلی ہے۔  بادل کے پھٹنے سے پیشگی بچاؤ کے بارے میں کچھ نہیں کیا جا سکتا‘۔ محکمہ موسمیات کے مطابق اگر کسی چھوٹے پہاڑی علاقے (1 سے 10 کلومیٹر تک) میں ایک گھنٹہ میں 10 سینٹی میٹر یا اس سے زیادہ بارش ہو تو وہاں بادل پھٹ کر اپنا سارا بوجھ ایک ہی وقت میں گرا دیتے ہیں جو سیلاب کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ یہ سیلاب اپنے ساتھ پتھر اور درخت سمیت سامنے آنے والی ہر چیز کو بہا کر لے جاتا ہے۔خیبرپختونخوا میں بادل پھٹنے سے ہونے والی اس تباہی سے شاید بچنا ممکن نہ تھا مگر جن علاقوں میں بادل نہیں پھٹے اور تباہی ہوئی، وہاں تمام تر نقصانات کی ذمے داری حکومت اور دریا کے قریب ہوٹل اور مکانات بنانے والوں پر عائد ہوتی ہے۔ حکومت تو ہر ایک پہلو سے مجرم ٹھہرتی ہے۔

بارشیں پوری دنیا میں ہوتی ہیں، وہاں بھی سیلا ب آتے ہیں لیکن وہاں کی حکومتیں اپنی بساط کے مطابق پورے انتظامات کرتی ہیں۔ چین اور انڈیا سمیت بڑے ممالک میں درجنوں ڈیم بنے ہوئے ہیں جہاں وہ پانی ذخیرہ کرکے اس سے استفادہ کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں بارشیں نہ ہوں تو پانی نایاب ہو جاتا ہے اور جب ہوں تو سیلاب اْمڈ آتے ہیں۔ اس کی بڑی وجہ پانی ذخیرہ کرنے کے انتظامات کا فقدان ہے۔پاکستان میں صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم کیلئے 1991 میں بنائے جانے والے ادارے انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) کے مطابق پاکستان میں پانی ذخیرہ کرنے کے صرف 2 بڑے ذرائع ہیں جن میں تربیلا ڈیم اور منگلا ڈیم شامل ہیں۔ ان دونوں ڈیموں میں صرف 30 دن کا پانی جمع کیا جاسکتا ہے۔
ارسا کے مطابق پاکستان میں بارشوں سے ہر سال تقریباً 145 ملین ایکڑ فٹ پانی آتا ہے لیکن ذخیرہ کرنے کا انتظام نہ ہونے کی وجہ سے صرف 13.7 ملین ایکڑ فٹ پانی بچایا جاسکتا ہے۔ پاکستان میں ہر سال 21 ارب روپے مالیت کا پانی ضائع ہوجاتا ہے۔ جتنا پانی سمندر میں جاتا ہے اسے بچانے کیلئے منگلا ڈیم کے حجم جتنے تین اور ڈیم بنانے کی ضرورت ہے۔ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ اب تک ایسے ڈیم نہیں بنائے جا سکے ہیں، نتیجتاً! خشک سالی اور سیلاب ہمارا مقدر بنے ہوئے ہیں۔ پاکستان میں چھوٹے بڑے ڈیموں کی تعمیر کا ذکر کیا جاتا ہے لیکن ابھی تک بیچارے پاکستانی ایسی کسی بھی پروجیکٹ کے ثمرات سے محروم ہیں۔ دیامر بھاشا ڈیم کو لے لیں، یہ منصوبہ 1980 سے زیر غور ہے اور ابھی 2020 میں اس پر کام تیز کرنے کا اعلان کرکے دعویٰ کیا گیا ہے کہ ڈیم کی تعمیر 2028 میں مکمل ہوگی۔ اسے پاکستان کا سب سے بڑا ڈیم قرار دیا جارہا ہے۔ اللہ کرے یہ ڈیم بروقت مکمل ہو۔ بہرحال، حکومت کو اس سے آگے کا بھی سوچنا چاہیے کیوں کہ اب ملک مزید تاخیر کا متحمل نہیں ہو سکتا۔وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو مل کر دیامر بھاشا ڈیم سمیت مزید ڈیم بنانے چاہئیں۔ حکومت کو درخت کاٹنے، دریا کے پانی کے قریب ہوٹل اور مکانات بنانے والوں کے خلاف بھی سخت کارروائی کرنی چاہیے۔ اس کیلیے حکومت کو سب سے پہلے اس طرح کے کاموں میں ملوث سرکاری ملازمین کے خلاف تادیبی کارروائی کرنا ہوگی۔ ارباب اختیار فیصلہ کرلیں کہ کام کرنا ہے یا پھر لوگوں کو ڈبونا ہے؟دریاؤں میں ڈیمز نہ بنائے جانے کی صورت میں کل ذخیرہ سے زائد پانی سمندر برد ہوچکا ہے۔