فرخ ریاض بٹ
پاکستان کا بڑا حصہ سیلاب میں ڈوبا ہوا ہے ۔جس کے سبب پاکستانی قوم ایسی آزمائش سے دوچار ہے جو قدرتی اسباب کیسا تھ ساتھ انسانی کوتاہیوں، من مانیوں اور ذاتی مفاد کو اجتماعی مفاد پر قربان کرنے کی مذموم روش کا نتیجہ ہے۔غیر محفوظ توانائی کے استعمال، جنگلات کے خاتمے جیسی کارروائیوں کے نتیجے میں کرہ ارض کے درجہ حرارت کے بڑھنے اور اس کی وجہ سے گلیشیروں کے پگھلنے کے تباہ کن اثرات سے ماہرین کئی دہائیوں سے خبردار کرتے چلے آرہے ہیں لیکن ترقی یافتہ ملکوں نے ماحول دوست توانائی کو خاطر خواہ پیمانے پر اپنا کر بتائے گئے خطرات سے دنیا کو بچانے کیلئے اپنا فرض ادا نہیں کیا جس کا خمیازہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملکوں کو بھگتنا پڑرہا ہے۔ تاہم ماحولیاتی چیلنج کی شدت دوسرے متاثرہ ملکوں کے مقابلے میں پاکستان میں سب سے زیادہ اسلئے ہے کہ ہم نے خود بھی اپنے پیروں پر آپ کلہاڑی مارنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ پانی ذخیرہ کرنے کیلئے ضرورت کے مطابق بڑے چھوٹے ڈیموں کی تعمیر پر کسی دور حکومت میں توجہ نہیں دی گئی، باتیں ہوئیں مگر عملی اقدامات نہ ہونے کے برابر رہے، جنگلات کی کٹائی کے مجرمانہ کاروبار کو روکنے کے بجائے چشم پوشی برتی جاتی رہی ، عدالتی احکامات کے باوجود یہ سلسلہ کبھی بند نہیں ہوا۔ آبی گزرگاہوں پر تعمیرات، درختوں کا صفایا کرکے پوش رہائشی اسکیموں کا لامتناہی سلسلہ، پورے ملک میں یہ سرگرمیاں کسی روک ٹوک کے بغیر جاری چلی آرہی ہیں اور اس کی وجہ ایسے با اثر، طاقتور عناصر کی دولت کی ہوس ہے جن کے خزانوں میں پہلے ہی کوئی کمی نہیں۔ آج پاکستان جس تباہ کن سیلاب سے دوچار ہے ، بلاشبہ اس میں قدرتی اسباب کا بڑا حصہ ہے لیکن اگر ہم نے اپنے حصے کا کام کرلیا ہوتا تو اس کی شدت اور تباہ کاری یقینا بہت کم ہوتی۔ سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا کوئی اندازہ تو اس وقت نہیں لگایا جاسکتا لیکن آنے والے چیلنجوں سے نمٹنے حکمت عملی ضرور طے کی جاسکتی ہے۔
وطن عزیز میںہر سال تباہ کن سیلاب سے نہ صرف انسانی جانوں کے ضیاع کا ہوتا ہے بلکہ لاکھوں افراد کو بے گھر بھی ہوتے ہیں۔ اس سنگین صورتحال کی ایک بڑی وجہ ڈیموں کی ناکافی تعداد ہے بھارت میں جہاں 6 ہزار سے زائد ڈیم موجود ہیں، وہیں پاکستان میں یہ تعداد بہت کم ہے۔ اگر ہم نے بروقت اقدامات کیے ہوتے اور ڈیموں کی تعمیر پر توجہ دی ہوتی تو آج صورتحال یکسر مختلف ہوتی۔ ڈیم صرف سیلابوں سے بچائو کا ذریعہ نہیں بلکہ وہ ملک کی آبی ضروریات کو پورا کرنے، زرعی پیداوار بڑھانے اور سستی بجلی پیدا کرنے کیلئے بھی ناگزیر ہیں ۔ پاکستان میں ڈیموں کی تعمیر کا عمل ہمیشہ سے سست روی کا شکار رہا ہے، کالا باغ ڈیم جیسے منصوبے، جن کی فزیبلٹی رپورٹ 1976 سے تیار ہے، آج تک تنازعات کا شکار ہیں اور تعمیر نہیں ہو سکے۔ حتیٰ کہ بھاشا ڈیم، جس کا آغاز 2006 میں سابق صدر پرویز مشرف نے کیا تھا، 19 سال گزرنے کے باوجود صرف 40 فی صد مکمل ہو سکا ہے۔ یہ صورتحال ہماری منصوبہ بندی اور عملدرآمد کی خامیوں کو واضح کرتی ہے۔ کالا باغ ڈیم کے معاملے پر سندھ اسمبلی نے 2012 میں چار قراردادیں منظور کی تھیں، جس میں اس منصوبے کی مخالفت کی گئی تھی۔ سندھ کا مؤقف ہے کہ ڈیموں کی تعمیر سے پنجاب اور خیبر پختون خوا کو زیادہ فائدہ ہوگا جبکہ سندھ کی زرعی زمینیں پانی سے محروم ہو جائیں گی۔ ان تحفظات کو دور کرنا انتہائی ضروری ہے اور اگر اس میں صرف سیاست نہیں ہے تو غیر متعصب ماہرین کی آراء کی روشنی میں بنانے نہ بنانے کا ایک بار فیصلہ کرلیا جائے تاکہ اور کسی منصوبے کو دیکھا جاسکے۔ ڈیموں کی تعمیر کے منصوبوں میں تمام صوبوں کو اعتماد میں لینا، پانی کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانا اور سندھ کے نچلے علاقوں کے لیے پانی کی دستیابی کی ضمانت دینا ناگزیر ہے اور اب تو جدید ٹیکنالوجی اور شفافیت کے ذریعے پانی کی تقسیم کے نظام کو بہتر بنایا جا سکتا ہے تاکہ کسی بھی صوبے کو یہ محسوس نہ ہو کہ اس کے حقوق پامال ہو رہے ہیں۔ پاکستان کی بقا اور ترقی ڈیموں کی تعمیر سے وابستہ ہے۔ ہمیں ماضی کی غلطیوں سے سیکھتے ہوئے ایک جامع اور متفقہ آبی پالیسی وضع کرنی ہوگی۔ تمام صوبوں کے تحفظات کو دور کرتے ہوئے قومی اتفاق رائے پیدا کرنا اور ڈیموں کی تعمیر کے عمل کو تیز کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ یہ نہ صرف ہمیں سیلابوں کی تباہ کاریوں سے بچائے گا بلکہ ہماری زرعی اور توانائی کی ضروریات کو بھی پورا کرے گا، جس سے ملک خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو سکے گا۔