ٹیرف کے اثرات پاکستان میں معاشی ترقی کی رفتار 3.6 کے بجائے 2.6 فیصد رہے گی آئی ایم ایف

 افراط زر 10فیصد سے کم ہوکر 5.1فیصد ہوگا، اگلے سال افراط زر کے 7.7 فیصد تک رہنے کی توقع ہے:ورلڈ اکنامک آؤٹ لک رپورٹ 

 واشنگٹن/اسلام آباد (یواین پی) بین الاقوامی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف) نے ورلڈ اکنامک آؤٹ لک رپورٹ جاری کردی جس میں رواں سال پاکستان کی معاشی ترقی کی رفتار 3.6 سے کم کرکے 2.6 فیصد ہونے کی پیشگوئی کردی گئی، اس سے پہلے آئی ایم ایف نے شرح نمو 3 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی تھی جب کہ حکومت پاکستان نے رواں مالی سال جی ڈی پی گروتھ کا ہدف 3.6 فیصد مقرر کر رکھا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق آئی ایم ایف نے امریکی صدر ٹرمپ کے تجارتی ٹیرف کے اقدامات کی وجہ سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے عالمی اقتصادی نمو کو بھی تبدیل کیا، آئی ایم ایف نے نئی پیش گوئی اپنی ورلڈ اکنامک آؤٹ لک رپورٹ اپریل 2025ء میں کی ہے، جس میں پاکستان کے لیے 2.6 فیصد شرح نمو کا تخمینہ حکومت کی جانب سے لگائے گئے تخمینے 3.6 فیصد سے کافی کم ہے، اگلے مالی سال کیلئے آئی ایم ایف نے پاکستان کی شرح نمو کا تخمینہ 3.6 فیصد لگایا، رواں مالی سال آئی ایم ایف نے پاکستان میں افراط زر میں بہتری کا اندازہ لگایا اور اسے 10فیصد سے کم کرکے 5.1فیصد کردیا، تاہم اگلے سال افراط زر کے 7.7 فیصد تک رہنے کی توقع ہے۔بتایا گیا ہے کہ آئی ایم ایف نے پاکستان کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کے تخمینے کو جی ڈی پی کے ایک فیصد سے کم کرکے 0.1 فیصد کردیا ہے، قبل ازیں آئی ایم ایف کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 3.7 بلین ڈالر تک بڑھنے کی توقع کر رہا تھا جسے اب 400 ملین ڈالر تک کم کردیا گیا ہے،