پاکستان کا کسٹمز اور ٹیرف نظام معاشی ترقی کیلئے نقصاندہ آئی ایم ایف ملک کا مستقبل امداد نہیں وزیرخزانہ

 پاکستان کا مجموعی ٹیرف خطے میں بلند ترین سطح پر رہا‘ ٹیرف میں دی جانے والی  چھوٹ کا فائدہ چند مخصوص شعبوں اور بڑی کمپنیوں تک محدود رہا، عام صنعت محروم  رہی :رپورٹ
 تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر توجہ ہے‘ملک کی معاشی حکمت عملی میں بنیادی تبدیلی آئی ہے،  گزشتہ 18 ماہ میں پاکستان کو نمایاں معاشی استحکام حاصل ہوا :محمد اورنگزیب
اسلام آباد (آن لائن) بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کے کسٹمز اور ٹیرف نظام پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے غیر مؤثر، حد سے زیادہ پیچیدہ اور معاشی ترقی کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان کی تجارتی پالیسیاں خطے میں سب سے زیادہ تحفظ پسند ہیں، جن کے باعث نہ صرف مسابقت متاثر ہو رہی ہے بلکہ برآمدات، سرمایہ کاری اور وسائل کے درست استعمال میں بھی رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں  آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق ٹیرف میں دی جانے والی  چھوٹ کا فائدہ چند مخصوص شعبوں اور بڑی کمپنیوں تک محدود ہے، جبکہ عام صنعت اور صارفین اس سے محروم ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ کسٹمز ڈیوٹی میں بظاہر کمی کی گئی، تاہم اضافی اور ریگولیٹری ڈیوٹیز میں نمایاں اضافہ کرکے مجموعی ٹیرف بوجھ مزید بڑھا دیا گیا ہے۔آئی ایم ایف کے مطابق مالی سال 2024-25 میں پاکستان کا مجموعی ٹیرف خطے میں بلند ترین سطح پر رہا، جس کے نتیجے میں وسائل کا غلط استعمال ہوا اور برآمدات کو شدید نقصان پہنچا۔ دریں اثناء  وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے  پاکستان امداد کے بجائے تجارت اور سرمایہ کاری کی بنیاد پر شراکت داری کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ملک کی معاشی حکمت عملی میں بنیادی تبدیلی آئی ہے، اور اب پاکستان کی توجہ صرف امداد پر نہیں، بلکہ تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر مرکوز ہے۔ اپنے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ گزشتہ 18 ماہ میں پاکستان کو نمایاں معاشی استحکام حاصل ہوا ہے، اور اس دوران مہنگائی 38 فیصد سے کم ہو کر سنگل ڈیجٹ میں آ گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان نے مالیاتی نظم و ضبط کے تحت پرائمری سرپلس حاصل کر لیا ہے، اور کرنٹ  اکا ؤنٹ خسارہ مقررہ اہداف کے اندر رہا ہے، جبکہ زرمبادلہ ذخائر میں بھی بہتری آئی ہے۔ انہوں نے کہا  کہ عالمی کریڈٹ ریٹنگ  ایجنسیوں نے پاکستان کی ریٹنگ اور آؤٹ لک کو اپ گریڈ کر دیا ہے، اور آئی ایم ایف کے توسیعی فنڈ پروگرام کے دوسرے جائزے کی منظوری مل چکی ہے۔ ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے، اور حکومت ٹیکس نیٹ میں رئیل اسٹیٹ، زراعت، اور ہول سیل و ریٹیل سیکٹر کو شامل کر رہی ہے