ایران کو تباہ کرنا ہے یا نہیں‘جلد بڑا فیصلہ کرنے جا رہا ہوں ‘شہبازشریف بہترین شخص ہیں ڈونلڈ ٹرمپ

میرے ذہن میں صرف ایک بات ہے  ایران ایٹمی ہتھیار نہیں رکھ سکتا‘ تہران سے معاہدہ کرنا چاہا لیکن ایران نے انکار کردیا،  دہشتگرد رجیم بہت برے طرز عمل کا مظاہرہ کر رہی ہے
پاکستان اور بھارت سمیت8جنگیں رکوائیں‘ امریکہ میں سب سے  زیادہ سرمایہ کاری ہو رہی ہے‘تمام ممالک بین الاقوامی فوجداری عدالت سے نکل جائیں:جنرل اسمبلی سے خطاب
نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے  وہ بڑا فیصلہ کرنے جا رہے ہیں، انہیں فیصلہ کرنا ہے  وہ ایران کو تباہ کردیں یا انہیں دوبارہ پنپنے دیں‘میرے ذہن میں صرف ایک بات ہے ایران ایٹمی ہتھیار نہیں رکھ سکتا۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا امریکہ آج ماضی کے مقابلے میں بہت زیادہ طاقتور ہے، امریکہ آگے بڑھ رہا ہے اور مستقبل پہلے سے بہت زیادہ روشن ہے۔ آج امریکہ میں دنیا کے کسی بھی ملک سے زیادہ سرمایہ کاری ہو رہی ہے، امریکی فوج دنیا کی طاقتور ترین فوج ہے، آج امریکی سرحدیں پہلے کے مقابلے میں زیادہ محفوظ ہیں، امریکا میں آج 125 سال کے مقابلے میں قتل کی وارداتوں کی شرح کم ترین ہے۔انہوںنے کہا  لوگوں نے امن کی باتیں کیں، میں نے امن کا قیام ممکن بنایا، امریکہ میں غربت کی شرح ریکارڈ سطح تک نیچے آگئی ہے۔ ایران مشرق وسطیٰ میں بدمعاشی کرتا تھا لیکن اب نہیں کرسکتا، ایران کسی صورت ایٹمی ہتھیار نہیں رکھ سکتا، ایران دنیا میں دہشتگردی کو پروموٹ کر رہا تھا۔ تہران سے معاہدہ کرنا چاہا لیکن ایران نے انکار کردیا، ایران کی دہشتگرد رجیم بہت برے طرز عمل کا مظاہرہ کر رہی ہے، ایران کا برا طرز عمل اس لیے نہیں  وہ طاقتور ہیں بلکہ اس لیے کہ وہ کمزور ہوگئے ہیں۔امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران کی معیشت تباہ ہوچکی اور اب وہاں منہگائی 300 فیصد ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ مڈٹرم الیکشن کے بعد ایران سے ڈیل ہوجائے گی۔انہوں نے کہا کہ ایران دیکھنا چاہتے ہیں کہ مڈٹرم الیکشن میں میری پوزیشن کیا رہتی ہے، ایرانیوں کو احساس نہیں کہ میں تو مڈٹرم الیکشن میں لڑ ہی نہیں رہا۔انہوں نے جنرل اسمبلی اجلاس سے خطاب میں ایک بار پاکستان اور بھارت کی جنگ ختم کرانے کا ذکر کیا‘انہوں نے کہا پاکستان اور بھارت کی جنگ سمیت8جنگیں رکوائیں‘وزیراعظم پاکستان شہباز شریف بہترین شخص ہیں‘انہوں نے مجھے کہا آپ نے کروڑوں جانیں بچائی ہیں‘ٹرمپ نے تمام ممالک سے اپیل کی  وہ بین الاقوامی فوجداری عدالت سے نکل جائیں۔ٹرمپ نے کہا کہ کوئی بھی عالمی ادارہ امریکا پر اپنا ایجنڈا مسلط کرنے کی کوشش نہ کرے، عالمی فوجداری عدالت کو امریکی شہریوں پر دائرہ اختیار حاصل نہیں، امریکا کی خودمختاری اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، کسی عالمی ادارے کو امریکی شہریوں کے خلاف کارروائی کی اجازت نہیں دیں گے اور امریکا اپنے شہریوں اور قومی مفادات کا ہر صورت دفاع کرے گا۔ٹرمپ نے واضح کیا کہ امریکا اپنے فوجی اہلکاروں کو کسی بھی ’امریکا مخالف ٹریبونل‘ کے نام نہاد اور نمائشی ٹرائلز  کا نشانہ بننے کی ہرگز اجازت نہیں دے گا۔انہوں نے رکن ممالک کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’میں عدالت کے تمام رکن ممالک سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ فوری طور پر اس بدمعاش  ادارے سے باضابطہ طور پر مستعفی ہو جائیں۔