وزیراعظم نے خیبرپختونخوا کے گیس اور گندم کے مسائل حل کرنے کی یقین دہانی کرائی، فیصل کریم کنڈی

وزیراعظم نے خیبرپختونخوا کے گیس اور گندم کے مسائل حل کرنے کی یقین دہانی کرائی، فیصل کریم کنڈی

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے صوبے کے گیس اور گندم سے متعلق مسائل کے فوری حل کے لیے اقدامات کیے ہیں، جبکہ خیبرپختونخوا کی ضرورت کے مطابق گندم فراہم کی جائے گی۔

 انہوں نے واضح کیا کہ گندم کی فراہمی میں کسی قسم کے غلط استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی اور عوام کے حقوق سے کھیلنے والے افسران کو جوابدہ ہونا پڑے گا۔پشاور میں مشیر اطلاعات ثمر ہارون بلور کے ہمراہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ صوبے کو مضبوط بنانے اور ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے تمام متعلقہ جماعتوں اور اداروں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق تین سیاسی جماعتوں نے بھی صوبے کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔فیصل کریم کنڈی نے بتایا کہ گزشتہ روز وزیراعظم کی زیر صدارت ایپکس کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبے کی سکیورٹی صورتحال، ترقیاتی منصوبوں اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ وزیراعظم نے صوبے کے مطالبات کی منظوری دی، جبکہ اجلاس میں صوبے میں تعینات افواج کے سربراہوں، چیف سیکریٹری اور 12 اضلاع کے حکام نے اپنی اپنی بریفنگز پیش کیں۔گورنر کے مطابق افواج کے سربراہوں نے سکیورٹی صورتحال، چیف سیکریٹری نے ترقیاتی منصوبوں اور مستقبل کی حکمت عملی، جبکہ مختلف اضلاع کے حکام نے اپنے ترقیاتی منصوبوں سے متعلق آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پہلی مرتبہ اس نوعیت کا اہم اور بڑا اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبے کے مسائل اور ترقیاتی ضروریات پر توجہ دی گئی۔

گندم کی فراہمی اور بدعنوانی کے خلاف اقدامات

فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ خیبرپختونخوا کو ضرورت کے مطابق گندم فراہم کی جائے گی، تاہم اس عمل میں شفافیت یقینی بنانا ضروری ہے۔ انہوں نے اضاخیل کے گوداموں میں گندم کے معاملے کی تحقیقات جلد سامنے لانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ عوام کے ساتھ ظلم و زیادتی کرنے والے افسران کو جوابدہ ہونا پڑے گا۔انہوں نے کرپشن اور من پسند تعیناتیوں کے حوالے سے زیرو ٹالرنس پالیسی اپنانے کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف کام کرنے اور کارکردگی دکھانے والے افسران ہی ٹیم کا حصہ رہیں گے، جبکہ ناقص کارکردگی دکھانے والوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہوگی۔گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ گزشتہ 13 برس کے دوران صوبے کو ترقی کے میدان میں پیچھے دھکیلا گیا، تاہم اب اسے آگے لے جانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔ ان کے مطابق وژن ایک ایسا خیبرپختونخوا بنانا ہے جو ترقی کرتا ہو، مضبوط ہو اور وقت کے تقاضوں کے مطابق تبدیل ہو۔ نئے طریقوں اور اصلاحات کے ساتھ چلنے والوں کا خیرمقدم کیا جائے گا۔

امن و امان اور سرمایہ کاری اولین ترجیح

فیصل کریم کنڈی نے واضح کیا کہ صوبے میں امن و امان پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پائیدار امن قائم ہونے کے بعد صوبے میں سرمایہ کاری، روزگار اور ترقی کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکیں گے۔انہوں نے بتایا کہ ترقیاتی منصوبوں میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کا ماڈل اپنانے پر کام کیا جا رہا ہے، جبکہ مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو خیبرپختونخوا میں سرمایہ کاری کی دعوت دی جائے گی۔ ان کے مطابق صوبے کی ترقی کے لیے دستیاب وسائل کو مؤثر انداز میں استعمال کرنا اور نجی شعبے کا تعاون حاصل کرنا ضروری ہے۔گورنر نے مشکل وقت میں وزیراعظم کی خیبرپختونخوا آمد اور تعاون پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ صوبے کے مسائل بھرپور انداز میں وفاق کے سامنے اٹھاتے رہیں گے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پولیس شہدا کے لیے پیکیج کی تیاری جاری ہے، جبکہ پولیس کو جدید آلات اور ضروری سامان فراہم کرنے کے لیے دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔

پشاور میں ٹریفک نظام بہتر بنانے کے لیے قانون سازی کا منصوبہ

نیوز کانفرنس کے دوران فیصل کریم کنڈی نے پشاور میں ٹریفک کی خراب صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹریفک اور ٹرانسپورٹ سے متعلق معاملات مختلف اداروں میں تقسیم ہونے کے باعث انتظامی مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ شہر میں ایک لاکھ گاڑیوں کے مقابلے میں صرف 23 ہزار گاڑیاں رجسٹرڈ ہیں۔ ان کے مطابق غیر رجسٹرڈ گاڑیوں کا ریکارڈ بہتر بنانے اور ٹریفک نظام کو مؤثر بنانے کے لیے قانون سازی کی جا رہی ہے۔گورنر نے بتایا کہ ڈرائیونگ لائسنس کے اجرا کے عمل کو جدید بنانے کے لیے نئی مشینیں بھی جلد نصب کی جائیں گی، جس سے شہریوں کو سہولت فراہم کرنے اور نظام میں بہتری لانے میں مدد مل سکتی ہے۔