امریکا کے اسرائیلی دفاع پر 11 ارب ڈالر خرچ، بوجھ ٹیکس دہندگان پر پڑا:عباس عراقچی

امریکا کے اسرائیلی دفاع پر 11 ارب ڈالر خرچ، بوجھ ٹیکس دہندگان پر پڑا:عباس عراقچی

تہران: ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے گزشتہ تین برس کے دوران اسرائیل کے میزائل دفاعی نظام کی معاونت پر امریکی ٹیکس دہندگان کے 11 ارب ڈالر خرچ کیے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے دفاع کے لیے امریکا نے خود اسرائیل سے زیادہ میزائل روکنے والے انٹرسیپٹرز داغے۔عباس عراقچی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں امریکا اور اسرائیل کے تعلقات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات باہمی فائدے کی بنیاد پر قائم نہیں ہیں۔ایرانی وزیرِ خارجہ کے مطابق امریکا اسرائیل کے دفاع کے لیے غیر معمولی وسائل صرف کر رہا ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان انحصار کی نوعیت واضح ہوتی ہے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ امریکا اور اسرائیل کا تعلق ایسا ہے جس میں ایک فریق دوسرے پر غیر متناسب حد تک انحصار کرتا ہے۔عباس عراقچی نے اپنے بیان میں میزائل دفاعی نظام پر ہونے والے اخراجات اور انٹرسیپٹرز کے استعمال کو اپنی دلیل کا حصہ بنایا۔ ان کے مطابق اسرائیل کے دفاع میں امریکی کردار محض سیاسی حمایت تک محدود نہیں بلکہ اس میں بڑے پیمانے پر مالی وسائل اور فوجی صلاحیتیں بھی استعمال ہوتی ہیں۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں سکیورٹی صورتِ حال، اسرائیل کے دفاع اور امریکا کی فوجی معاونت سے متعلق معاملات عالمی توجہ کا مرکز ہیں۔ اسرائیل کے میزائل دفاعی نظام میں مختلف دفاعی تہیں شامل ہیں، جنہیں میزائل اور دیگر فضائی خطرات کو روکنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔عباس عراقچی کے بیان میں 11 ارب ڈالر کے اخراجات سے متعلق دعوے کی آزادانہ تصدیق فراہم نہیں کی گئی۔ اس لیے اس رقم اور گزشتہ تین برس کے دوران استعمال ہونے والے انٹرسیپٹرز کی تعداد کے حوالے سے حتمی نتیجے تک پہنچنے کے لیے متعلقہ امریکی سرکاری اعدادوشمار اور دفاعی رپورٹس کا جائزہ ضروری ہے۔