لوئس ہیملٹن کا فلسطین کی آزادی اور امن کے حق میں دوٹوک مؤقف

لوئس ہیملٹن کا فلسطین کی آزادی اور امن کے حق میں دوٹوک مؤقف

فارمولا ون کے سات مرتبہ عالمی چیمپئن رہنے والے برطانوی ڈرائیور لوئس ہیملٹن نے ایک بار پھر فلسطینی عوام کے حق میں آواز بلند کرتے ہوئے دنیا کے مختلف خطوں میں جاری تنازعات کے خاتمے اور پائیدار امن کی امید ظاہر کی ہے۔

امریکی گراں پری سے قبل گفتگو کرتے ہوئے ہیملٹن نے کہا کہ فلسطین، کانگو، سوڈان اور شام سمیت دنیا کے مختلف حصوں میں متاثرہ عوام کے حقوق اور آزادی کے لیے آواز اٹھانا ضروری ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایک دن دنیا میں امن قائم ہوگا اور لوگوں کو جنگوں اور تنازعات سے نجات مل سکے گی۔لوئس ہیملٹن اس سے قبل بھی غزہ میں جاری انسانی بحران اور فلسطینی عوام کو درپیش مشکلات پر تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر شہرت اور اثر و رسوخ رکھنے والے افراد کو انسانی حقوق اور اہم عالمی مسائل کی جانب توجہ دلانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ستمبر 2025 میں ہیملٹن نے فلسطینی عوام کی مشکلات کے تناظر میں لوگوں پر زور دیا تھا کہ وہ انسانی بحران پر خاموش نہ رہیں اور متاثرین کی مدد کے لیے آگے آئیں۔ اس موقع پر انہوں نے انسانی امداد کی ضرورت کو بھی اجاگر کیا تھا۔ہیملٹن نے فلسطینی ہلال احمر، ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز اور سیو دی چلڈرن برطانیہ سمیت ان تنظیموں کی امدادی کوششوں کا بھی ذکر کیا جو تنازعات سے متاثرہ افراد، خصوصاً بچوں، کو طبی امداد اور دیگر بنیادی سہولتیں فراہم کرنے میں مصروف ہیں۔ انہوں نے ان اداروں کو عطیات دینے کے بارے میں بھی بتایا تھا۔

مئی 2024 میں بھی فارمولا ون اسٹار نے غزہ میں اسرائیلی حملے روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے فلسطینی بچوں کی مشکلات پر توجہ دلائی تھی۔ ان کے بیانات میں جنگ سے متاثرہ بچوں اور عام شہریوں کے تحفظ کی اہمیت نمایاں رہی ہے۔لوئس ہیملٹن کھیلوں کی دنیا کی نمایاں شخصیات میں شمار ہوتے ہیں اور اپنے پلیٹ فارم کو سماجی مسائل پر اظہارِ خیال کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔ فلسطین سمیت مختلف خطوں میں انسانی بحرانوں کے حوالے سے ان کا مؤقف اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ کھیلوں سے ہٹ کر بھی انسانی حقوق اور عالمی امن کے معاملات پر آواز اٹھانا چاہتے ہیں۔