بھارت میں پھٹا ہوا 10 روپے کا نوٹ تبدیل کرنے کی درخواست پر مبینہ طور پر تھپڑ مارے جانے اور تضحیک کا سامنا کرنے والے 23 سالہ مسلمان ڈیلیوری بوائے سمیر حسین کی زہر پینے کے بعد اسپتال میں موت ہوگئی۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس نے مقدمے میں خودکشی پر اکسانے سے متعلق دفعات شامل کرکے واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔بھارتی میڈیا کے مطابق سمیر حسین 4 اکتوبر کی رات دہلی کے علاقے ونود نگر میں رامپال سنگھ نامی شخص کو تقریباً 150 روپے مالیت کا کافی کا آرڈر پہنچانے گیا تھا۔ سمیر نے اپنی ریکارڈ کی گئی ویڈیو میں الزام عائد کیا کہ پھٹا ہوا 10 روپے کا نوٹ تبدیل کرنے کی درخواست پر کسٹمر نے اسے تین تھپڑ مارے اور بدتمیزی کی۔رپورٹس کے مطابق سمیر نے خودکشی سے قبل ریکارڈ کی گئی ویڈیو میں اپنی مالی مشکلات اور واقعے کے بعد تضحیک کا ذکر کیا، جبکہ اس نے انصاف نہ ملنے کے خدشے کا بھی اظہار کیا۔ ویڈیو میں سمیر نے واقعے کا ذمہ دار رامپال سنگھ اور اس کے پوتے راکیش کو ٹھہرایا۔بھارتی میڈیا کے مطابق سمیر نے 5 اکتوبر کو زہریلا مادہ پی لیا، جس کے بعد اسے فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔ وہ کئی روز تک زیرِ علاج رہا، تاہم 20 اکتوبر کو دورانِ علاج دم توڑ گیا۔
سمیر کی والدہ کلیمہ نے اپنے بیٹے کی موت پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے الزام لگایا کہ اسے غربت کے باعث تضحیک کا نشانہ بنایا گیا۔ ان کے مطابق سمیر نے اپنی 24ویں سالگرہ سے چند روز قبل یہ انتہائی قدم اٹھایا۔ والدہ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ملزم کے سیاسی روابط ہیں۔واقعے کے بعد پولیس نے درج مقدمے میں خودکشی پر اکسانے سے متعلق دفعات شامل کرلی ہیں اور معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔ پولیس کی تحقیقات میں سامنے آنے والے شواہد اور متعلقہ افراد کے بیانات کی روشنی میں واقعے کی ذمہ داری کا تعین کیا جائے گا۔