ویب ڈیسک: وزیراعظم شہباز شریف نے کراچی اور مالدیپ کے درمیان براہ راست پروازیں چلانے کی ہدایت کردی، جبکہ پاکستان اور مالدیپ کے درمیان دوطرفہ تجارت کا حجم ایک کروڑ 30 لاکھ ڈالر سے بڑھا کر 20 کروڑ ڈالر تک لے جانے کا اعلان کیا گیا ہے۔
پاکستان اور مالدیپ کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پاکستان مالدیپ بزنس فورم کا انعقاد کیا گیا، جس میں وزیراعظم شہباز شریف، مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو اور دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ فورم کے دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعاون کے مختلف معاہدوں پر دستخط بھی کیے گئے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اور مالدیپ کے درمیان اقتصادی تعاون کے فروغ کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ دونوں ممالک کو تجارت، سیاحت اور دیگر شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے مؤثر اقدامات کرنے چاہئیں۔وزیراعظم نے کراچی اور مالدیپ کے درمیان براہ راست پروازیں شروع کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ فضائی رابطوں میں بہتری سے دونوں ممالک کے عوام، کاروباری افراد اور سیاحوں کو سہولت ملے گی۔ براہ راست پروازوں سے تجارتی سرگرمیوں اور سیاحت کے فروغ میں بھی مدد ملنے کی توقع ہے۔شہباز شریف نے پاکستان اور مالدیپ کے درمیان بحری تعاون اور میری ٹائم شپنگ کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان روابط کو وسعت دینے اور اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے مختلف شعبوں میں مشترکہ اقدامات ضروری ہیں۔
پاکستان مالدیپ بزنس فورم میں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم ایک کروڑ 30 لاکھ ڈالر سے بڑھا کر 20 کروڑ ڈالر تک پہنچانے کا ہدف بھی سامنے آیا۔ اس مقصد کے لیے کاروباری روابط بڑھانے، سرمایہ کاری کے نئے مواقع تلاش کرنے اور نجی شعبے کے درمیان تعاون کو فروغ دینے پر توجہ دی جائے گی۔اس موقع پر مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو نے پاکستانی کمپنیوں کو مالدیپ میں جدید ٹیکنالوجی متعارف کرانے اور سرمایہ کاری کرنے کی دعوت دی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور مالدیپ کے درمیان اقتصادی تعاون کے متعدد مواقع موجود ہیں، جن سے دونوں ممالک فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔مالدیپ کے صدر نے تعلیم، سیاحت اور دیگر اہم شعبوں میں سرمایہ کاری کے امکانات کو اجاگر کرتے ہوئے دونوں ممالک کے کاروباری اداروں پر زور دیا کہ وہ مشترکہ منصوبوں کے ذریعے اقتصادی تعلقات کو مزید آگے بڑھائیں۔