پاکستانی شوبز انڈسٹری کی سینئر اداکارہ اسماء عباس نے نوجوان نسل میں مہنگے برانڈز کے بڑھتے ہوئے رجحان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے خاندان میں آج بھی لنڈا بازار سے کپڑے خریدے جاتے ہیں اور وہ خود بھی اتوار بازار سے خریداری کرنے کو ترجیح دیتی ہیں۔
اسماء عباس نے حال ہی میں ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں بطور مہمان شرکت کی، جہاں انہوں نے مختلف موضوعات پر گفتگو کی۔ اس دوران اداکارہ نے مہنگے برانڈز کی نمائش اور نوجوان نسل میں ان کی بڑھتی ہوئی اہمیت پر بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔اداکارہ کا کہنا تھا کہ موجودہ دور میں لوگ اپنی اشیاء کو ان کے استعمال یا خصوصیات کے بجائے برانڈ کے نام سے پہچاننے لگے ہیں۔ ان کے مطابق اب لوگ یہ بتانے کے بجائے کہ ان کے پاس کون سا بیگ ہے، اس بات پر زیادہ زور دیتے ہیں کہ وہ کس مشہور برانڈ کا ہے۔اسماء عباس نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اب جرابوں پر بھی نائیکی جیسے معروف برانڈ کا نام نمایاں ہونا ضروری سمجھا جاتا ہے تاکہ دوسروں کو معلوم ہو سکے کہ پہننے والا کس کمپنی کی مصنوعات استعمال کر رہا ہے۔ان کے مطابق برانڈز کے ناموں کو ضرورت سے زیادہ اہمیت دینے کے اس رجحان نے خریداری اور چیزوں کے انتخاب کو غیر ضروری طور پر پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ کسی چیز کی قدر صرف اس کے مہنگے یا معروف برانڈ سے نہیں ہونی چاہیے۔
اداکارہ نے اپنی ذاتی عادات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ وہ آج بھی پہلے کی طرح اتوار بازار سے خریداری کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے اپنے بچوں کی تربیت بھی اسی سوچ کے تحت کی کہ لباس یا کسی بھی چیز کی اہمیت اس کی قیمت اور برانڈ کے بجائے اس کے معیار اور اپنی پسند سے ہونی چاہیے۔اسماء عباس نے مزید کہا کہ اگر انہیں لنڈا بازار میں کوئی چیز پسند آجائے تو وہ وہاں سے خریداری کرنے میں بھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتیں۔ ان کے مطابق مہنگے برانڈز کا استعمال کسی شخص کی قدر یا حیثیت کا واحد معیار نہیں ہونا چاہیے۔