بھارتی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان سارو گنگولی کو اپنی شخصیت کے حقوق کے تحفظ کے لیے عدالت سے فوری ریلیف نہ مل سکا، دہلی ہائی کورٹ نے ان کی فلم ’دوسرا‘ کی ریلیز روکنے کی درخواست مسترد کر دی۔
فلم 23 اکتوبر کو سینما گھروں میں ریلیز ہونے والی ہے۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق سارو گنگولی نے فلم کے ٹریلر اور تشہیری مہم میں اپنی شخصیت اور کرکٹ کی زندگی سے جڑے مشہور لمحات کے مبینہ غیر مجاز استعمال پر اعتراض اٹھایا تھا۔ ان کا مؤقف تھا کہ ان کی شناخت کو تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کرنے سے ناظرین میں یہ تاثر پیدا ہو سکتا ہے کہ وہ فلم سے وابستہ ہیں۔گنگولی کے اعتراضات میں 2002 کی نیٹ ویسٹ سیریز کے فائنل میں انگلینڈ کے خلاف بھارت کی کامیابی کے بعد لارڈز کرکٹ گراؤنڈ کی بالکونی میں شرٹ اتار کر لہرانے کا مشہور واقعہ بھی شامل ہے۔ یہ لمحہ بھارتی کرکٹ کی تاریخ کے یادگار واقعات میں شمار کیا جاتا ہے۔رپورٹس کے مطابق سارو گنگولی اور پروڈکشن ہاؤس لوو فلمز ایل ایل پی کی جانب سے فلم میں ان کی شخصیت کے استعمال پر قانونی اعتراض اٹھایا گیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ تشہیری مواد سے فلم کے ساتھ ان کی وابستگی کا تاثر پیدا ہو سکتا ہے، جس پر انہیں تحفظات ہیں۔
دوسری جانب فلم سازوں نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ ’دوسرا‘ سارو گنگولی کی سوانح عمری نہیں بلکہ راجستھان سے تعلق رکھنے والی ایک لڑکی کی کہانی ہے، جو گنگولی سے متاثر ہو کر روایتی سماجی پابندیوں کو چیلنج کرتی ہے۔فلم کی ہدایت کاری ابھینے دیو نے کی ہے، جبکہ پلابیتا بورتھاکر مرکزی کردار ادا کر رہی ہیں۔ فلم کی کہانی اور اس کے مرکزی کردار کو گنگولی کی زندگی پر مبنی سوانحی پیش کش کے بجائے ایک الگ کہانی قرار دیا گیا ہے۔