اسلام آباد(آئی این پی)پاکستان میں انتظامی تنظیمِ نو، نئے صوبوں کے قیام اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی سے متعلق قومی مباحثے میں حکومتی و اپوزیشن رہنماں، پالیسی ماہرین اور سینئر صحافیوں نے شرکت کی۔ مباحثے میں ملک کے انتظامی مسائل کے حل، وسائل کی منصفانہ تقسیم، مضبوط بلدیاتی نظام اور عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی بہتر بنانے پر زور دیا گیا۔ وفاقی وزیر احسن اقبال نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ پائیدار ترقی کے لیے سماجی شعبے کو مضبوط بنانا ضروری ہے، دنیا میں کوئی ایسا ملک نہیں جس نے ترقی کی ہو اور اس کے بچے سکولوں سے باہر ہوں، پاکستان میں اڑھائی کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں، اس لیے شرح خواندگی میں اضافے کے لیے اجتماعی کوششیں کرنا ہوں گی۔انہوں نے کہا کہ جس ملک کے 40 فیصد بچے نشوونما میں کمی یعنی سٹنٹنگ کا شکار ہوں، وہ ترقی نہیں کر سکتا، پاکستان میں آبادی بڑھنے کی شرح 2.4 فیصد سے بڑھ کر 2.55 فیصد ہو گئی ہے، جو مستقبل کے لیے توجہ طلب معاملہ ہے۔احسن اقبال نے کہا کہ اگر بااختیار تیسری سطح کی حکومت قائم کی جائے تو نئی قیادت سامنے آئے گی اور اختیارات کو مثر انداز میں نچلی سطح تک منتقل کیا جا سکے گا۔متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنما مصطفی کمال نے کہا اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی وقت کی اہم ضرورت ہے، مضبوط بلدیاتی نظام کے ذریعے ہی عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کیے جا سکتے ہیں‘ بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ انتظامی بنیادوں پر اختیارات کی حقیقی منتقلی ناگزیر ہے اور نئے انتظامی یونٹس کے قیام کے لیے ڈھانچہ موجود ہے، این ایف سی کے تحت رقوم صوبوں کو منتقل ہونے کے بعد ان کے استعمال سے متعلق فیصلے صوبائی حکومتوں، بالخصوص وزیراعلی کی صوابدید پر ہوتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ سیاسی سطح پر مختلف کام کرانے کے وعدے کیے جاتے ہیں، لیکن گلیوں اور سڑکوں کی تعمیر سمیت متعدد بنیادی مسائل حل نہیں ہو پاتے، ملک کو درپیش مسائل کے حل کے لیے مستقبل میں آئینی ترمیم کی جانب جانا پڑ سکتا ہے۔پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے کہا کہ ملک کے انتظامی مسائل پر توجہ دینے اور بنیادی مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، جس طرز پر ملک چلانے کا تصور پیش کیا گیا تھا، اس کے مطابق نظام آج تک نہیں چلایا جا سکا۔مباحثے کے دوران محمد علی درانی نے کہا کہ نئے انتظامی یونٹس اور اصلاحات کے معاملے پر سیاسی اتفاقِ رائے کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔