پنکی پیرنی نے بیان غلطی سے نہیں سوچی سمجھی سازش کے تحت دیا، مریم اورنگ زیب

پنکی پیرنی نے بیان غلطی سے نہیں سوچی سمجھی سازش کے تحت دیا، مریم اورنگ زیب

لاہور:پنجاب کی سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پنکی پیرنی نے سعودی سرمایہ کاری کے خلاف جو بیان دیا، وہ عمران خان کے کہنے پر دیا اور یہ کوئی غلطی نہیں بلکہ سوچی سمجھی سازش تھی۔

مریم اورنگزیب کا بیان
مریم اورنگزیب نے کہا کہ پنکی پیرنی نے جو بھی بیان دیا، وہ عمران خان کے کہنے پر دیا اور اس میں جو وضاحتیں دی جا رہی ہیں وہ جھوٹ اور فراڈ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کوئی غلطی نہیں بلکہ سوچی سمجھی سازش تھی جس کا مقصد سعودی سرمایہ کاری کو سبوتاژ کرنا تھا۔مریم اورنگزیب نے مزید کہا کہ عمران خان نے پنکی پیرنی سے بیان دلوایا تاکہ سعودی عرب کے ساتھ سرمایہ کاری کے تعلقات کو نقصان پہنچایا جا سکے۔ وہ کہتی ہیں کہ یہ ایک ذہنی غلاظت ہے جو جان بوجھ کر دی گئی تھی۔ "پنکی پیرنی اور عمران خان میں کوئی فرق نہیں، سب کچھ سوچی سمجھی سازش کے تحت کیا گیا۔"

سعودی عرب کے حوالے سے عمران خان پر تنقید
مریم اورنگزیب نے سعودی عرب کے حوالے سے عمران خان کے بیان کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اس بیان کا مقصد سعودی عرب کے ساتھ تعلقات میں دراڑ ڈالنا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ عمران خان نے یہ سازش خود تیار کی اور اب وہ پنکی پیرنی کے بیان پر پاپندی لگا کر خود بچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انصاف اور اخلاقیات پر سوالات
مریم اورنگزیب نے کہا کہ عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے بچوں کی موجودگی کے بارے میں سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ جب وہ خود شاہی مہمان خانے میں بیٹھے تھے تو انہیں سازش یاد نہیں آئی۔ انہوں نے یہ بھی سوال کیا کہ "انتشار کی کال دینے والے بشریٰ اور عمران خان کے بچے کہاں ہیں؟ اپنے بچے ٹھنڈی ہواؤں میں ہیں اور ملک کے بچے تباہی کی طرف جا رہے ہیں؟"

سعودی عرب کے ساتھ تعلقات پر خدشات
مریم اورنگزیب نے یہ بھی کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ عمران خان کی پچھلی حکومت کے دوران کیے گئے کاروباری معاملات اور تحفے لے کر آنے والے پیسے کی جعلسازی پر بھی سوالات اٹھائے۔ انہوں نے یہ دعویٰ کیا کہ "ننگے پاؤں مدینہ جانے والوں نے خانہ کعبہ کے عکس والی گھڑی جعل سازی سے بیچ کر کروڑوں روپے کمائے۔"

خلاصہ
مریم اورنگزیب نے پنکی پیرنی کے بیان کو عمران خان کی سوچی سمجھی سازش قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ سازش سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کو خراب کرنے کے لیے کی گئی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے اپنے ذاتی مفادات کے لیے ملک کی سیاست میں افراتفری پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔