ویب ڈیسک:پنجاب حکومت نے سزا یافتہ قیدیوں کو ان کے متعلقہ ضلع کی جیلوں میں رکھنے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر صوبائی محکمہ داخلہ نے اس فیصلے کے لیے ایک نئی پالیسی مرتب کی ہے، جس کے تحت اب 5 سال یا اس سے زائد کی سزا پانے والے قیدیوں کو سینٹرل جیلوں کی بجائے ان کے اپنے اضلاع کی جیلوں میں رکھا جائے گا۔ماضی میں اس بات کا امکان تھا کہ قیدی اپنے اضلاع کی جیلوں کی بجائے سینٹرل جیلوں میں منتقل کیے جاتے تھے، جس سے ان کے اہل خانہ کو دور دراز جیلوں میں قیدیوں سے ملاقات میں شدید مشکلات کا سامنا ہوتا تھا۔ اس کے علاوہ، مالی مشکلات اور وقت کی کمی بھی اہل خانہ کے لیے ایک چیلنج بن جاتی تھی۔
سابقہ پالیسی کے مطابق، سینٹرل جیلوں میں قیدیوں کی گنجائش سے زیادہ تعداد رکھی جاتی تھی، جبکہ حکومت پنجاب کے نئے فیصلے کے تحت ڈسٹرکٹ جیلوں کی سکیورٹی کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔ اب ان جیلوں میں قیدیوں کی گنجائش بھی موجود ہے اور سزائے موت کے قیدیوں کو پہلے ہی اپنے متعلقہ اضلاع کی جیلوں میں رکھا جا رہا ہے۔مزید برآں، محکمہ داخلہ نے اس بات کا فیصلہ کیا ہے کہ قیدیوں کو ان کے متعلقہ ضلع کی جیل میں بھیجنے کے عمل کے بارے میں طریقہ کار مرتب کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔ یہ کمیٹی ایک ہفتے میں اپنی سفارشات اور لائحہ عمل تیار کرے گی۔ اس فیصلے سے نہ صرف قیدیوں کی زندگی میں آسانی آئے گی بلکہ ان کے اہل خانہ کے لیے بھی ملاقات کرنا آسان ہو گا۔