موٹرویز تاحکم ثانی بند رہیں گی‘رنگ روڈ کو 23 اور24نومبر کو صبح 8 سے 6 بجے تک ٹریفک کیلئے بند رکھا جائے گا‘ راولپنڈی اور اسلام آباد میں ٹرانسپورٹ کے تمام اڈے اور ہاسٹل بند کردیئے گئے
30 ہزار پولیس اور ایف سی اہلکار اسلام آباد پہنچ گئے‘پنجاب سے 19ہزار اہلکار و افسر ، سندھ پولیس سے 5 ہزار اور آزاد کشمیر سے ایک ہزار اہلکار پہنچے ہیں‘لاہور میں متحرک کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن تیز کر دیا گیا
لاہور ‘اسلام آباد(کرائم رپورٹر‘ایجنسیاں) حکومت پنجاب نے صوبہ بھر میں دفعہ 144 نافذ کر دی ہے۔ محکمہ داخلہ پنجاب کے جاری کردہ نوٹیفیکیشن کے مطابق پنجاب میں ہر قسم کے احتجاج، جلسے، جلوس، ریلیوں، دھرنوں اور ایسی تمام سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ حکومت پنجاب نے صوبے میں ہفتہ 23 نومبر سے سوموار 25 نومبر تک 3 دن کیلئے دفعہ 144 نافذ کی۔ ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب نے بتایا کہ کابینہ کمیٹی برائے امن و امان نے جمعرات کو اپنے 18ویں اجلاس میں دفعہ 144 کے نفاذ کی سفارش کی تھی۔ نوٹیفیکیشن کے مطابق دفعہ 144 کے نفاذ کا فیصلہ امن و امان کے قیام، انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کیلئے کیا گیا۔ سکیورٹی خطرات کے پیش نظر کوئی بھی عوامی جلوس دہشت گردوں کیلئے سافٹ ٹارگٹ ہو سکتا ہے۔ لاہور میں 23 اور24نومبر کو پی ٹی آئی کے متوقع احتجاج کی وجہ سے لاہور پولیس نے رنگ روڈ بند رکھنے کا مراسلہ کمانڈنٹ رنگ کو بھجوا دیامراسلے میں کہا گیا ہے کہ شرپسند عناصر امن و عامہ میں نقص عامہ کا باعث بن سکتے ہیں ،امن و امان کو برقرار رکھنے کیلئے رنگ روڈ کو مکمل بند رکھا جائے،رنگ روڈ کو 23 اور24نومبر کو صبح 8 سے 6 بجے تک ٹریفک کیلئے بند رکھا جائے۔راولپنڈی اسلام آباد میں ہفتہ کی شب سے میڑو بس سروس غیر معینہ مدت کیلئے بند رہے گی، راولپنڈی سمیت ڈویژن بھر میں جلسے جلوسوں و اجتماعات پر دفعہ 144 کے تحت پابندی نافذ ہے۔ راولپنڈی ڈویڑن کے تین اضلاع راولپنڈی، اٹک اور جہلم میں پولیس کی معاونت کیلئے رینجرز کی خدمات بھی طلب کی گئی ہیں۔احتجاج کے پیش نظر اسلام اباد ٹرانسپورٹ اتھارٹی نے شہر کے تمام ٹرانسپورٹ اڈے بند کرنے کا حکم بھی جاری کردیا، ممکنہ کشیدہ حالات کے پیش نظر ٹرانسپورٹ کے اڈے شام سے بند کردیے گئے جبکہ پولیس نے اسلام آباد کے نجی ہاسٹلز بھی بند کرادیے ہیں جس سے یہاں مقیم طلبا پریشانی کا شکار ہیں۔نیشنل ہائی وے اینڈ موٹروے پولیس کے مطابق 22 نومبر کی رات 8 بجے سے پشاور سے اسلام آباد موٹروے، لاہور سے اسلام آباد موٹر وے، لاہور سے عبدالحکیم موٹروے، پنڈی بھٹیاں سے ملتان موٹر وے، سیالکوٹ تا لاہور موٹر وے ڈی آئی خان تا ہکلہ موٹر وے مرمت کی وجہ سے تاحکم ثانی بند رہے گی،د جلسے کی کال کے پیش نظر لاہور میں متحرک کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن تیز کر دیا گیا۔ احتجاج کو روکنے کیلئے پنجاب، سندھ سمیت دیگر صوبوں سے ایف سی سمیت 30 ہزار پولیس اہلکار اسلام آباد پہنچ گئے۔ تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف کے احتجاج سے نمٹنے کیلیے دیگر صوبوں سے آنیوالی پولیس کی نفری اسلام آباد پہنچ گئی ہے۔ پنجاب سے 19ہزار اہلکار و افسران جبکہ سندھ پولیس کی 5 ہزار نفری اسلام آباد پہنچ گئی ہے۔ اس کے علاوہ ایف سی کی 5 ہزار نفری اور آزاد کشمیر پولیس کی ایک ہزار نفری بھی اسلام آباد پہنچ گئی۔ رپورٹ کے مطابق پہلی مرتبہ نفری کے ساتھ پولیس کے اعلی افسران بھی منگوائے گئے ہیں، متعلقہ اضلاع کی نفری کے ہمراہ ان کے ڈی ہی از بھی اسلام آباد ڈیوٹی کریں گے۔ ہر ضلع کی پولیس کی کمانڈ بھی ساتھ منگوائی گئی ہے۔