ایران امریکا 9نکاتی معاہدہ؟
امریکا اور ایران ایک دوسرے کی فوجی، شہری اور معاشی تنصیبات کو نشانہ نہ بنانے کے پابند ہوں گے، میڈیا پر جاری سخت بیانات اور پراکسی محاذ آرائی کو بھی روکنے پر اتفاق ،آبنائے ہرمز، خلیج عمان اور خلیج عرب میں جہاز رانی کی آزادی ہوگی :مجوزہ معاہدہ
اسلام آباد، تہران( مانیٹرنگ ڈیسک )عرب میڈیا کا دعویٰ ہے کہ ایران امریکا 9نکاتی معاہد ے کا مسودہ تیار کرلیا گیا ،خطے میں قیام امن کیلئے کوششیں آرمی چیف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ایران پہنچ گئے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل کا دورہ امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوششوں کا حصہ ہے۔آئی ایس پی آر نے بتایا کہ تہران پہنچنے پر فیلڈ مارشل کا ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پرتپاک استقبال کیا جبکہ اس موقع پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی بھی موجود تھے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق اس دورے کے دوران خطے میں قیام امن اور دیگر امور پر بات چیت ہوگی۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کچھ روز پہلے خلیجی اور دیگر ملکوں کے کہنے پر ایران پر حملہ موخر کرنے کا اعلان بھی کیا تھا اور کہا کہ لگتا ہے ایران کے ساتھ معاہدہ ہونے کا اچھا موقع ہے۔ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا تھا ایران نے جنگ ٹالنے کے لیے ہر راستہ تلاش کیا ہے، ایران کی طرف سے تمام راستے کھلے ہیں۔اس سے پہلے ایران کے دورے پر موجود وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی تہران میں صدر مسعود پزشکیان، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں، جنگ بندی کے حوالے سے گفتگو کی گئی۔ایران امریکا جنگ میں پاکستان ایک ثالث کا کردار ادا کررہا ہے، محسن نقوی کی گزشتہ روز بھی ایرانی حکام سے ملاقاتیں جاری رہیں، انہوں نے ایران کے وزراء اور اعلیٰ شخصیات سے ملاقاتیں کیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں گفتگو کے دوران ایران کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہمارے پاس دنیا کی سب سے عظیم فوج ہے‘۔ٹرمپ نے کہا کہ ’ایران معاہدہ کرنے کے لیے بے تاب ہے، ہم دیکھیں گے کیا ہوتا ہے۔ لیکن ہم نے انھیں سخت نشانہ بنایا اور ہمارے پاس کوئی اور راستہ نہیں تھا کیونکہ ایران ایٹمی ہتھیار نہیں رکھ سکتا۔ وہ اسے حاصل نہیں کر سکتے۔‘ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے پاکستان کی ثالثی میں تیار کیا گیا ایک ممکنہ معاہدے کا حتمی مسودہ مکمل ہوگیا جس کا اعلان جلد متوقع ہے۔اس بات کا انکشاف سعودی عرب کے سرکاری نشریاتی نیٹ ورک العربیہ نے خصوصی رپورٹ میں کیا ہے۔نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس باخبر ذرائع نے العربیہ نیوز کو مزید بتایا کہ یہ مسودہ ابھی دونوں ممالک کی باضابطہ منظوری کا منتظر ہے۔ذرائع نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ حتمی مسودے کی منظوری بھی بہت جلد متوقع ہے اور اب جلد علان کردیا جائے گا۔رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ معاہدے کے نافذ ہوتے ہی فوری اور غیر مشروط جنگ بندی عمل میں آ جائے گی جس کا اطلاق زمینی، فضائی اور بحری تمام محاذوں پر ہوگا۔مجوزہ معاہدے کے تحت امریکا اور ایران ایک دوسرے کی فوجی، شہری اور معاشی تنصیبات کو نشانہ نہ بنانے کے پابند ہوں گے جبکہ میڈیا پر جاری سخت بیانات اور پراکسی محاذ آرائی کو بھی روکنے پر اتفاق کیا گیا۔مجوزہ نو نکاتی معاہدے میں آبنائے ہرمز، خلیج عمان اور خلیج عرب میں جہاز رانی کی آزادی کی ضمانت بھی شامل ہے جبکہ عمل درآمد کی نگرانی اور تنازعات کے حل کے لیے مشترکہ میکنزم قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔اس مجوزہ معاہدے کے مطابق اعلان کے 7 روز بعد باقی متنازع امور پر باضابطہ مذاکرات شروع ہوں گے جبکہ ایران کی شرائط پر عمل درآمد کے بدلے امریکا بتدریج اقتصادی پابندیاں نرم کرے گا۔تاہم رپورٹ میں یہ بات نمایاں ہے کہ مجوزہ مسودے میں امریکا کے اہم مطالبات واضح طور پر شامل نہیں جن میں ایران کے جوہری پروگرام کا خاتمہ، 60 فیصد افزودہ یورینیم کے ذخائر بیرون ملک منتقل کرنا، بیلسٹک میزائل پروگرام محدود کرنا اور خطے میں مسلح اتحادی گروپوں کی حمایت روکنا شامل ہیں۔یاد رہے کہ تاحال ایران اور امریکا نے اس مسودے کی باضابطہ تصدیق یا تردید نہیں کی ہے تاہم خلیجی ممالک کافی پْرامید ہیں اور اسی بنیاد پر صدر ٹرمپ نے بھی ایران پر نئے حملوں کو روکنے کا حکم دیا تھا۔ متحدہ عرب امارات کے صدارتی مشیر انورقرقاش نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان معاہدہ طے پاجانے کا امکان 50 فیصد ہے جس میں آبنائے ہرمز کی بحالی بنیادی شق ہے۔دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی معاہدے میں امید افزا پیشرفت ہوئی ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اب سے کچھ دیر قبل ایران کے دورے پر پہنچے ہیں جہاں امریکا کے ساتھ جنگ بندی معاہدے پر وہ اعلیٰ قیادت سے ملاقات کریں گے۔