عالمی منڈی میں منگل کے روز خام تیل کی قیمتوں میں ایک فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے نتیجے میں گزشتہ روز سے جاری گراوٹ کا سلسلہ مزید تیز ہو گیا۔
یہ کمی امریکہ اور ایران کے درمیان جاری امن مذاکرات اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل میں بہتری کے اشاروں کے بعد سامنے آئی۔برینٹ کروڈ فیوچرز کی قیمت 1.09 ڈالر (1.4 فیصد) کمی کے بعد 76.81 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 87 سینٹ (1.2 فیصد) کمی کے ساتھ 72.99 ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔ اس سے قبل پیر کے روز بھی تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد سے زیادہ کمی دیکھی گئی تھی۔توانائی ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز سے بحری ترسیل میں بتدریج بہتری عالمی مارکیٹ پر دباؤ ڈال رہی ہے۔ شپنگ ڈیٹا کے مطابق دو خام تیل بردار جہاز، جن میں تقریباً 2 ملین بیرل تیل موجود تھا، حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز سے گزرے، جو سپلائی کی صورتحال میں بہتری کا اشارہ ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ پیش رفت کو مارکیٹ صرف سپلائی چین میں بہتری نہیں بلکہ سفارتی سطح پر مثبت اشارہ بھی سمجھ رہی ہے، تاہم امریکہ اور ایران کے درمیان بداعتمادی کے باعث صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے اور قیمتوں میں فوری بحالی کے امکانات محدود ہیں۔
دوسری جانب ایک رائٹرز سروے کے مطابق امریکی خام تیل کے ذخائر میں کمی کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ پیٹرول اور ڈیزل کے ذخائر بھی کم سطح پر آ چکے ہیں۔ امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی 331.2 ملین بیرل تک گر گیا ہے، جو جون 1983 کے بعد سب سے کم سطح ہے۔پاکستان کے لیے اس صورتحال کو اہم قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ عالمی قیمتوں میں کمی کے بعد پیٹرولیم مصنوعات سستی ہونے کا امکان بڑھ گیا ہے۔ ابتدائی اندازوں کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں تقریباً 62 روپے فی لیٹر تک کمی آ سکتی ہے، جس کے بعد نئی قیمت 238 روپے فی لیٹر کے قریب پہنچ سکتی ہے، تاہم حتمی فیصلہ حکومت آئندہ قیمتوں کے جائزے میں کرے گی جس کا اعلان جمعہ کو متوقع ہے۔