جنیوا: اقوام متحدہ نے اپنی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ میانمار کی فوج گزشتہ سال انتخابات کے دوران چھ ماہ کے عرصے میں 700 سے زائد شہریوں کی ہلاکت کی ذمہ دار ہے۔
اقوام متحدہ کی جاری رپورٹ کے مطابق، گزشتہ سال کے دوران میانمار کی فوج نے چھ ماہ کے عرصے میں 702 سے زائد شہریوں، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، جانیں لی ہیں۔ فضائی حملوں کو ہلاکتوں کا سب سے بڑا سبب قرار دیا گیا ہے، جن میں جنگی طیاروں، ڈرونز اور دیگر فضائی آلات سے حملے کیے گئے۔رپورٹ کے مطابق، ہلاک ہونے والوں میں سے 505 افراد فضائی حملوں کے نتیجے میں مارے گئے، جن میں 175 خواتین اور 112 بچے شامل ہیں۔ اقوام متحدہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ ہلاکتیں براہ راست میانمار کی فوج سے منسوب ہیں، مگر اصل تعداد اس سے بھی کہیں زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ دیگر مسلح گروہوں کے ہاتھوں ہونے والی ہلاکتیں بھی اس میں شامل نہیں ہیں۔میانمار میں 2021 میں فوجی بغاوت کے بعد سے خانہ جنگی جاری ہے، جس نے ملک میں عدم استحکام اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو جنم دیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انتخابی عمل سے قبل اور بعد میں ہونے والی کشیدگیوں کے دوران شہری ہلاکتوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
اقوام متحدہ نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ میانمار کی صورتحال کو عالمی عدالت میں پیش کیا جائے اور اس کے ہتھیاروں، جیٹ فیول اور دیگر سامان کی فراہمی روکی جائے جو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی میں استعمال ہو سکتے ہیں۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ بحران جنوبی ایشیا کے سب سے سنگین انسانی المیوں میں شامل ہو چکا ہے اور فوری اقدامات کی ضرورت ہے