رمضان بخشش اور مغفرت کا مہینہ

مہراشتیاق احمد
رمضان المبارک وہ روحانی موسم ہے جس کی خوشبو ایمان کی دنیا میں اتر کر دلوں کو منور کر دیتی ہے۔ یہ مہینہ محض روزہ رکھنے کا نام نہیں بلکہ تزکیہ نفس، صبر، قربانی، محبت اور احساسِ ہمدردی کی تربیت کا جامع نصاب ہے۔ جب چاند نظر آتا ہے، فضا میں ایک عجب سکون اتر آتا ہے، گھروں میں چراغ ایمان روشن ہوتے ہیں، اور ہر دل اپنی حالت بدلنے کا عزم کرتا ہے۔ رمضان کا آغاز ہمیں یاد دلاتا ہے کہ زندگی کی اصل منزل صرف دنیاوی دوڑ نہیں بلکہ اللہ کی رضا ہے۔ روزہ انسان کے باطن کو اس طرح پاک کرتا ہے جیسے بارش مٹی کو دھو دیتی ہے۔ بھوک اور پیاس کا یہ امتحان دراصل ضبطِ نفس کا درس دیتا ہے۔ انسان جب دن بھر کھانے پینے سے باز رہتا ہے تو اسے احساس ہوتا ہے کہ دنیا میں کتنے لوگ ایسے ہیں جو بغیر روزے کے بھی بھوکے سوتے ہیں۔ یہی احساس معاشرتی عدل اور انسان دوستی کی بنیاد بنتا ہے۔  

رمضان کی ایک بڑی برکت یہ ہے کہ یہ ہمیں اجتماعی روح عطا کرتا ہے۔ سحری کی برکت سے صبحیں عبادت کی چاشنی میں ڈوب جاتی ہیں، مساجد اللہ اکبر کی صداؤں سے گونج اٹھتی ہیں، افطار کے وقت ماں کے ہاتھ کی دعائیں، بچوں کی خوشی اور روزہ کشائی کی رونقیں ایک خیر و برکت کی فضا قائم کرتی ہیں۔ یہ مناظر ہمیں احساس دلاتے ہیں کہ ایمان صرف عبادت کا نام نہیں بلکہ محبت، اتحاد اور شکرگزاری کا بھی مظہر ہے۔  روزہ نہ صرف بھوک پیاس برداشت کرنے کا نام ہے بلکہ زبان، آنکھوں اور دل کی بھی حفاظت کا تقاضا کرتا ہے۔ اگر روزہ دار اپنی زبان سے دوسروں کو تکلیف پہنچائے یا جھوٹ بولے، تو روزہ کا روحانی اثر ضائع ہو جاتا ہے۔ اسی لیے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ’’جس نے جھوٹ بولنے اور جھوٹ پر عمل کرنا نہ چھوڑا، اللہ کو اس کے کھانے پینے سے باز رہنے کی کوئی حاجت نہیں‘‘ مطلب یہ کہ عبادت کا مقصد دل کی اصلاح اور اخلاقی بلندی ہے، نہ کہ صرف ظاہری پرہیز۔  

مزید یہ کہ رمضان بخشش اور مغفرت کا مہینہ ہے۔ ہر رات اللہ تعالیٰ بندوں کو پکارتا ہے کہ ’’ہے کوئی مانگنے والا جسے میں عطا کروں؟‘‘ یہ اعلانِ رحمت بندے کے لیے روحانی بیداری کا لمحہ ہے۔ تراویح کی نمازوں میں قرآن کی تلاوت دلوں کو نرم کرتی ہے اور ایمان کی تازگی عطا کرتی ہے۔ ایک لمحے کو تصور کیجیے وہ بندہ جو سارا سال غفلت میں رہا، مگر رمضان کی کسی رات آنسو بہا کر توبہ کر لیتا ہے، اس کے لیے یہ رات بخشش کا پروانہ بن جاتی ہے۔ رمضان کا ایک اہم پہلو زکوٰۃ اور صدقہ ہے۔ اس مہینے میں جب صاحبِ استطاعت لوگ اپنا مال مستحقین تک پہنچاتے ہیں، تو معاشرتی توازن قائم ہوتا ہے۔ غربت کے احساس کو مٹانے کے لیے یہی جذبہ کافی ہے۔ اسلام نے دولت کے بہاؤ کو روکنے کے بجائے اسے پاکیزہ طریقے سے تقسیم کرنے کا درس دیا ہے، تاکہ کوئی دل بھوک سے نہ تڑپے۔ روزے کے ساتھ ساتھ یہی مالی قربانی حقیقی عبادت کا مظہر ہے۔  

رمضان ہمیں ایک نظامِ زندگی سکھاتا ہے۔ وقت کی پابندی، نظم و ضبط، صبر، اور روحانی سکون یہ سب وہ اقدار ہیں جو اگر پورے سال اپنائی جائیں تو ایک صالح معاشرہ وجود میں آسکتا ہے۔ لیکن افسوس کہ رمضان کے گزرنے کے بعد اکثر لوگ اپنی پرانی روش پر لوٹ آتے ہیں۔ دراصل رمضان کا مقصد یہ نہیں کہ صرف ایک مہینہ نیکی کی جائے، بلکہ یہ زندگی بھر نیکی پر قائم رہنے کی تربیت دیتا ہے۔ جب عید کا چاند نمودار ہوتا ہے تو خوشی کے ساتھ ایک احساس بھی پیدا ہوتا ہے کہ یہ مہینہ کتنی جلدی گزر گیا۔ درحقیقت رمضان ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ وقت تیزی سے گزرتا ہے، لہٰذا نیکی اور اصلاح کا موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا جائے۔ جس طرح روزہ دار غروبِ آفتاب کا انتظار کرتا ہے، ویسے ہی مؤمن کو آخرت کے غروب کے لیے تیار رہنا چاہیے، جہاں اصل کامیابی بخشش و مغفرت کی صورت میں ملے گی۔ رمضان کی برکتیں لفظوں میں سمونا مشکل ہے کیونکہ یہ دل اور روح کا تجربہ ہے۔ اس مہینے کا ایک لمحہ بھی ضائع کرنا کسی قیمتی خزانے کو گنوانے کے مترادف ہے۔ اگر ہم روزے کے حقیقی مقصد کو سمجھ جائیں، دوسروں کا احساس کریں، اور اپنے اندر کی خود غرضی کو مار ڈالیں، تو یقین مانیے ہمارا معاشرہ جنت کا عکس بن سکتا ہے۔  ،بشکریہ سی سی پی۔