نسل کشی بند کرو:

ملک حبیب الرحمن خان اعوان

یونیسف کی حالیہ رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی جارحیت کے دوران روزانہ اوسطاً 28 بچے قتل ہو رہے ہیں۔ یہ محض اعداد و شمار نہیں، بلکہ معصوم جانیں ہیں، جنہیں ظلم و بربریت سے اس دنیا سے چھین لیا گیا۔ ہر بچے کا ایک نام تھا، ایک خواب، ایک مستقبل تھا — اور وہ جینے کا وہ بنیادی حق رکھتے تھے جو ہر بین الاقوامی قانون اور اخلاقی ضابطے کے تحت محفوظ ہے۔یہ جنگ نہیں، بلکہ عام شہریوں، بالخصوص بچوں کو منظم اور دانستہ طور پر نشانہ بنانا ہے۔ یہ نہ صرف بین الاقوامی انسانی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ ایک خطرناک نسل کشی کا اشارہ بھی ہے۔انصاف اور احتساب کے لیے ہمارے مطالبات بطور چیئرمین، متحدہ علماء￿  و مشائخ کونسل آف پاکستان اور سینئر مرکزی نائب صدر، تنظیمْ الاعوان پاکستان، میں عالمی برادری، انسانی حقوق کے اداروں، اور عالمی قانونی تنظیموں سے مطالبہ کرتا ہوں کہ فوری طور پر مداخلت کرتے ہوئے درج ذیل اقدامات کیے جائیں:1. عالمی فوجداری عدالت (ICC)اسرائیلی سیاسی و عسکری قیادت کے خلاف جنگی جرائم کی تحقیقات کی جائیں۔
جہاں شواہد موجود ہوں، وہاں گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے جائیں۔2. اقوامِ متحدہ (UN)
جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کیا جائے تاکہ فوری جنگ بندی کو یقینی بنایا جا سکے۔
آزاد تحقیقاتی ٹیمیں غزہ اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں بھیجی جائیں۔جب تک احتساب ممکن نہ ہو، اسرائیل کی اقوامِ متحدہ میں شرکت معطل کی جائے۔3. یونیسف اور اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل (UNHRC)اسرائیلی کارروائیوں کو بچوں اور انسانوں کے بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا جائے۔غزہ میں بلا رکاوٹ انسانی امداد کی فراہمی اور زخمی و بے گھر بچوں کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔4. بین الاقوامی عدالتِ انصاف (ICJ)
پہلے سے دائر کردہ نسل کشی کے مقدمے کو فوری طور پر سنا جائے۔اسرائیل پر قانونی طور پر پابند اقدامات عائد کیے جائیں تاکہ جارحیت اور شہریوں کو نشانہ بنانا فوری طور پر روکا جا سکے۔5. اسلامی تعاون تنظیم (OIC)مسلم اْمہ کو محض مذمتی بیانات سے آگے بڑھنا ہوگا۔قانونی، سفارتی اور معاشی سطح پر مشترکہ اقدامات کیے جائیں۔اسرائیلی مصنوعات، میڈیا، اور جنگی پروپیگنڈے میں ملوث اداروں کا فوری بائیکاٹ کیا جائے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں (HRW، ایمنسٹی، ریڈ کراس، سیو دی چلڈرن وغیرہ)غزہ میں ہونے والے مظالم کی شفاف، زمینی 
سطح پر رپورٹنگ کی جائے۔عالمی حکومتوں کو اسرائیل کو اسلحہ اور فوجی امداد کی ترسیل بند کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جائے۔ہم خاموش نہیں رہ سکتے
یہ اب صرف ایک خطہ یا قوم کا مسئلہ نہیں رہا، بلکہ پوری انسانیت کے ضمیر کا امتحان ہے۔اگر دنیا نے اب بھی خاموشی یا سیاسی مصلحت اختیار کی، تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی میں تمام میڈیا اداروں، صحافیوں، علمائے کرام، سماجی کارکنوں، اور عالمی سیاسی قائدین سے اپیل کرتا ہوں کہ ایک ہو کر، ایک آواز بن کر کہیں:
"قتلِ عام بند کرو۔ نسل کشی بند کرو۔ ظالموں کا احتساب کرو!"تاریخ یاد رکھے کہ ہم مظلوموں کے ساتھ کھڑے ہوئے۔ ہم نے ہر ممکن قانونی، سفارتی، انسانی، اور اخلاقی پلیٹ فارم استعمال کیا تاکہ بے گناہ جانوں کا تحفظ کیا جا سکے، اور خونِ ناحق کو روکا جا سکے۔