سوڈان کے شمالی کردفان کے علاقے میں ایک بازار کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 6 افراد ہلاک جبکہ 26 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔
ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں بچے بھی شامل ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق حملہ الرہد قصبے میں ایک مصروف بازار پر کیا گیا، جہاں عام شہری خریداری میں مصروف تھے۔ حملے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ زخمیوں کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف کے مطابق حملے میں ہلاک ہونے والوں میں دو بچے اور چار بالغ افراد شامل ہیں، جبکہ زخمی ہونے والوں میں بھی کئی بچے موجود ہیں۔ یونیسیف نے سوڈان میں جاری تنازع کے دوران بچوں کو درپیش خطرات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بچے مسلسل تشدد اور حملوں کا نشانہ بن رہے ہیں۔سوڈان میں اپریل 2023 سے فوج اور نیم فوجی گروپ ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF) کے درمیان شدید لڑائی جاری ہے، جس نے ملک کو بدترین انسانی بحران سے دوچار کر دیا ہے۔اقوام متحدہ اور امدادی اداروں کے مطابق اس تنازع کے نتیجے میں لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں، جبکہ بڑی تعداد میں شہری بنیادی سہولیات، خوراک اور طبی امداد کی کمی کا سامنا کر رہے ہیں۔
حالیہ مہینوں میں سوڈان میں ڈرون حملوں کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، جن میں فوجی تنصیبات کے ساتھ ساتھ شہری علاقوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ شہری آبادی پر حملے جنگی صورتحال کو مزید سنگین بنا رہے ہیں۔دوسری جانب سوڈانی حکام اور متحارب فریقین کی جانب سے حملے کی ذمہ داری سے متعلق فوری طور پر کوئی واضح بیان سامنے نہیں آیا۔ تاہم، ملک میں جاری خانہ جنگی کے باعث شہریوں کے تحفظ پر عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے۔ماہرین کے مطابق اگر فریقین کے درمیان سیاسی حل تلاش نہ کیا گیا تو سوڈان میں انسانی بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے، جبکہ شہری آبادی کو مزید جانی نقصان کا خطرہ برقرار رہے گا۔