سوڈان: بازار پر ڈرون حملے میں 53 افراد ہلاک، خواتین اور بچے بھی متاثر

سوڈان: بازار پر ڈرون حملے میں 53 افراد ہلاک، خواتین اور بچے بھی متاثر

خرطوم: سوڈان کی فوج پر متنازع سرحدی علاقے ابیئی میں ایک بازار کو ڈرون حملے میں نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں کم از کم 53 افراد ہلاک اور 27 زخمی ہوگئے۔

مقامی حکام کے مطابق ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں خواتین، بچے، بزرگ، مقامی تاجر، جنوبی سوڈان واپس آنے والے شہری اور سوڈانی پناہ گزین شامل ہیں۔خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ابیئی کے مقامی حکام نے الزام لگایا ہے کہ حملے کے دوران فوج نے بازار پر 22 مرتبہ بارودی مواد یا گولہ بارود استعمال کیا۔ حملے کے نتیجے میں جانی نقصان کی بڑی تعداد کے باعث علاقے میں تشویش پائی جاتی ہے، جبکہ شہریوں کی سلامتی سے متعلق خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔حکام کے مطابق حملے کا نشانہ بننے والا بازار مقامی آبادی کے لیے اہم تجارتی مرکز ہے، جہاں مختلف علاقوں سے لوگ خریداری اور کاروباری سرگرمیوں کے لیے آتے ہیں۔ متاثرین میں نوک ڈنکا برادری کے افراد کے علاوہ تنازع سے متاثرہ علاقوں سے نقل مکانی کرنے والے شہری بھی شامل ہیں۔

اقوام متحدہ کی مذمت، ہلاکتوں کی تعداد پر اختلاف

اقوام متحدہ نے بھی ابیئی میں ہونے والے حملے کی مذمت کرتے ہوئے شہریوں کی ہلاکتوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک کے مطابق امیت مارکیٹ میں کم از کم 28 شہری ہلاک ہوئے، جبکہ متعدد افراد زخمی اور کئی لاپتا ہیں۔ اقوام متحدہ کی جانب سے بتائی گئی ہلاکتوں کی تعداد مقامی حکام کے اعدادوشمار سے کم ہے۔مقامی حکام نے ہلاکتوں کی تعداد 53 بتائی ہے، جبکہ اقوام متحدہ کے بیان میں کم از کم 28 شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی۔ ان اعدادوشمار میں فرق کی وجوہات کے بارے میں مزید تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔اقوام متحدہ نے سوڈان میں ڈرون حملوں میں اضافے کو تشویش ناک قرار دیتے ہوئے شہریوں کے تحفظ کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ جنگ زدہ علاقوں میں بازاروں اور دیگر عوامی مقامات پر حملوں سے عام شہریوں کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہوتے ہیں۔

جنوبی سوڈان کا سفارتی احتجاج

حملے کے بعد جنوبی سوڈان کی وزارت خارجہ نے سوڈان کے سفیر کو طلب کیا اور مبینہ حملے پر احتجاج کیا۔ جنوبی سوڈانی حکام نے الزام عائد کیا کہ سوڈانی فوج نے بازار کے متعدد مقامات کو نشانہ بنایا۔رپورٹس کے مطابق امیت مارکیٹ ان علاقوں تک سامان پہنچانے کے لیے ایک اہم گزرگاہ ہے جہاں نیم فوجی تنظیم ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کا کنٹرول ہے۔ اس وجہ سے یہ علاقہ جاری تنازع کے تناظر میں اہمیت رکھتا ہے۔تاہم، حملے کی ذمہ داری اور اس کے حالات سے متعلق تمام دعوؤں کی آزادانہ تصدیق دستیاب معلومات میں شامل نہیں۔ سوڈانی فوج کا اس مخصوص واقعے پر باضابطہ مؤقف بھی واضح ہونا باقی ہے۔

سوڈان میں اپریل 2023 سے خانہ جنگی جاری

سوڈان اپریل 2023 سے سرکاری فوج اور نیم فوجی تنظیم ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان شدید لڑائی کی لپیٹ میں ہے۔ اقتدار اور ملک کے مختلف علاقوں پر کنٹرول کے لیے جاری اس جنگ نے بڑے پیمانے پر انسانی بحران کو جنم دیا ہے۔تنازع کے دوران متعدد علاقوں میں شہری آبادی، بنیادی ڈھانچے اور تجارتی مراکز کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق اتوار اور پیر کو سوڈان کے مختلف علاقوں میں ہونے والے حملوں میں بھی 100 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ڈرون حملوں میں اضافے نے تنازع کی شدت اور عام شہریوں کو لاحق خطرات کے بارے میں مزید خدشات پیدا کردیے ہیں۔ امدادی سرگرمیوں اور ضروری اشیا کی ترسیل میں رکاوٹیں بھی جنگ سے متاثرہ آبادی کے لیے مشکلات بڑھا سکتی ہیں۔

ابیئی کا متنازع علاقائی پس منظر

ابیئی ایک متنازع علاقہ ہے جس پر سوڈان اور جنوبی سوڈان دونوں دعویٰ کرتے ہیں۔ جنوبی سوڈان نے کئی دہائیوں کے تنازع کے بعد 2011 میں سوڈان سے الگ ہوکر آزادی حاصل کی تھی، تاہم ابیئی کی حیثیت اور انتظامی کنٹرول کا معاملہ طویل عرصے سے حساس رہا ہے۔یہ علاقہ اپنی جغرافیائی اور سیاسی اہمیت کے باعث دونوں ممالک کے تعلقات میں اہم مقام رکھتا ہے۔ خطے میں جاری عدم استحکام اور مسلح کارروائیوں کے باعث یہاں رہنے والے شہریوں کو سلامتی اور نقل و حرکت کے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

شہریوں کی سلامتی پر بڑھتے خدشات

ابیئی کے بازار پر مبینہ حملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سوڈان میں جاری جنگ کے باعث انسانی بحران مزید سنگین ہونے کے خدشات پائے جاتے ہیں۔ بازار جیسے عوامی مقامات پر جانی نقصان سے مقامی آبادی کی روزمرہ زندگی اور تجارت بھی متاثر ہوتی ہے۔