تحریر: ثمر فاطمہ
موجودہ ملکی حالات میں عدم استحکام کی ایک بڑی وجہ سوشل میڈیا کے ذریعے فیک نیوز پھیلانے کو سمجھا جا رہا ہیں۔ جو کہ بہت حد تک درست بھی ہے جیسے کہ پی ٹی آئی کارکنان کی جانب سے ڈی چوک واقعہ میں ہلاکتوں کی تعداد کے اعدادوشمار میں تضاد ہیں۔ یہ پہلا واقعہ نہیں ہے کہ کوئی فیک نیوز پھیلائی گئی ہو۔ اس سے قبل ایک نجی کا لج میں طالبہ کے ساتھ مبینہ طور پر زیادتی کی جھوٹی خبرپھیلائی گئی جس نے ملک میں احتجاج کی ایک نئی لہر کو ہوا دی اور پاکستان کے تعلیمی اداروں میں کئی روز تک احتجاج ہوتا رہا جس میں سرکاری اور پرائیویٹ املاک کو کافی نقصان پہنچا۔ حکومت کی جانب سے فیک نیوز کے خلاف مؤثر سائبر قوانین متعارف کروانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ان قوانین کے ذریعے سوشل میڈیا پر فیک نیوز پھیلانے والوں کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں گے تاکہ ملک میں بے یقینی اور انتشار کی صورتحال سے بچا جا سکے۔
پاک فوج کی جانب سے بھی فارمیشن کمانڈر کانفرنس میں فیک نیوز اور جھوٹے پروپیگنڈہ پر مبنی خبروں کے خلاف تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔کانفرنس نے کہا کہ یہ پروپیگنڈہ بعض سیاسی عناصر کے مذموم عزائم کا تسلسل ہے، جس کا مقصد عوام، مسلح افواج اور ریاستی اداروں کے درمیان اختلافات پیدا کرنا ہے۔ کانفرنس نے اس بات پر زور دیا کہ ایسی سازشیں کبھی کامیاب نہیں ہوں گی اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ بے لگام اور غیر اخلاقی آزادی اظہار کے نام پر جھوٹ، نفرت انگیزی اور معاشرتی تقسیم کا خاتمہ یقینی بنانے کے لیے سخت قوانین اور ضوابط تشکیل دیے جائیں اور ان پر مؤثر عملدرآمد کیا جائے۔ اجلاس نے جعلی خبریں پھیلانے والوں کی نشاندہی کرکے انہیں انصاف کے کٹہرے میں لانے کی ضرورت پر زور دیا اور واضح کیا کہ ذاتی مفادات کے لیے معصوم شہریوں کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کرنے یا تشدد کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کسی بھی کوشش کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ فورم نے اقتصادی ترقی کے فروغ، غیر قانونی سرگرمیوں کے خاتمے، اور دہشت گردی و جرائم کے گٹھ جوڑ کو ختم کرنے کے لیے حکومتی کوششوں کی حمایت جاری رکھنے کا اعادہ بھی کیا۔
وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے مطابق پاکستان الیکٹرانک کرائم ایکٹ میں ترمیم کی جا رہی ہے جس سے فیک نیوز پھیلانے والوں کیلیے پانچ سال قید اور دس لاکھ جرمانے کی سزا تجویز کی جا رہی ہے۔ دوسری جانب بعض حلقوں کی جانب سے فیک نیوز کے تدارک کیلیے نئے قوانین لانے کی کوششوں کو آزادیِ اظہارِ رائے پر قدغن قرار دیا جا رہا ہے۔ ان حلقوں کا مؤقف ہے کہ ان قوانین کا مقصد صرف جھوٹی خبروں کا خاتمہ نہیں بلکہ اختلافی آوازوں کو دبانا اور تنقید کو محدود کرنا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے قوانین آزادیِ اظہار کے بنیادی حق کو متاثر کر سکتے ہیں اور انہیں سیاسی مفادات کے لیے استعمال کیے جانے کا خدشہ ہے۔ دوسری جانب، ان قوانین کے حامیوں کا دعویٰ ہے کہ فیک نیوز معاشرتی تقسیم، اشتعال انگیزی اور جھوٹے بیانیے کے فروغ کا سبب بن رہی ہے، جس سے نہ صرف قومی مفادات کو نقصان پہنچ رہا ہے بلکہ عوامی شعور بھی متاثر ہو رہا ہے۔ لہٰذا، ان کے مطابق، ایسے قوانین ضروری ہیں تاکہ معاشرے میں ذمہ دارانہ صحافت اور درست معلومات کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔
ماضی میں حکومت نے فیک نیوز اور پروپیگنڈے کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹویٹر کو بند کیا تھا، لیکن صارفین نے وی پی این کے ذریعے اس کا استعمال جاری رکھا، جس نے ان اقدامات کی مؤثریت پر سوالات اٹھائے۔ اب حکومت نے غیر قانونی وی پی اینز کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے، مگر وی پی این رجسٹر کرنا ایک تکنیکی اور پیچیدہ عمل ہے، جس کے لیے نہ صرف وسائل بلکہ ماہرین کی مستقل نگرانی بھی درکار ہوگی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ وی پی اینز کا استعمال سوشل میڈیا صارفین کی آئی پی ایڈریسز چھپانے اور ڈیجیٹل ٹریس کو محدود کرنے میں کافی مؤثر ہے، جو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، وی پی این کے ذریعے نہ صرف بند پلیٹ فارمز تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے بلکہ یہ ڈیجیٹل سرگرمیوں کو گمنام بنانے کا بھی ذریعہ بن چکا ہے، جس سے فیک نیوز پھیلانے والے افراد کے خلاف کارروائی مزید مشکل ہو سکتی ہے۔ اگرچہ حکومت فیک نیوز کے خاتمے کے لیے سخت قوانین متعارف کروا رہی ہے، لیکن ان پر مؤثر عمل درآمد کے لیے تکنیکی وسائل، مضبوط انفراسٹرکچر، اور عالمی سوشل میڈیا کمپنیوں کے ساتھ تعاون ناگزیر ہے۔ بصورت دیگر، وی پی این کے استعمال کی موجودگی میں یہ قوانین صرف کاغذی حد تک محدود رہ سکتے ہیں، اور سوشل میڈیا پر پروپیگنڈے کا سلسلہ بدستور جاری رہنے کا خطرہ موجود ہے۔
موجودہ دور میں سوشل میڈیا کے ذریعے فیک نیوز اور جھوٹے پروپیگنڈے نے قومی استحکام کے لیے ایک سنگین چیلنج کھڑا کر دیا ہے۔ پی ٹی آئی کے ڈی چوک واقعے سے لے کر نجی تعلیمی ادارے میں طالبہ سے مبینہ زیادتی کی جھوٹی خبروں تک، ایسے واقعات نے نہ صرف عوامی جذبات کو بھڑکایا بلکہ سماجی اور معاشی نقصان کا سبب بھی بنے۔ حکومت اور مسلح افواج نے اس خطرے کو روکنے کے لیے سخت قوانین اور اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے، جبکہ بعض حلقے ان قوانین کو آزادیِ اظہار پر قدغن قرار دے رہے ہیں۔ تاہم، موجودہ حالات میں یہ واضح ہے کہ قومی مفادات اور عوامی شعور کو نقصان پہنچانے والی جھوٹی خبروں کے خلاف سخت کارروائی ضروری ہے۔ حکومت کے لیے یہ چیلنج ہے کہ وہ تکنیکی مسائل، جیسے وی پی این کے غلط استعمال، پر قابو پا کر مؤثر قانون سازی اور اس پر عمل درآمد کو یقینی بنائے تاکہ سچائی، ذمہ داری اور استحکام کو فروغ دیا جا سکے۔