پاکستانی سفیر کا سلامتی کونسل میں دوٹوک مؤقف، بھارت کو آئینہ دکھا دیا

پاکستانی سفیر کا سلامتی کونسل میں دوٹوک مؤقف، بھارت کو آئینہ دکھا دیا

نیویارک: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں کھلے مباحثے کے دوران پاکستانی سفیر عثمان جدون نے بھارت کی جانب سے لگائے گئے بے بنیاد الزامات کا بھرپور جواب دیتے ہوئے عالمی برادری کے سامنے بھارت کا اصل چہرہ بے نقاب کر دیا۔

بھارتی مندوب کے الزامات پر ردعمل دیتے ہوئے عثمان جدون نے کہا کہ بھارتی نمائندے نے ایک بار پھر سلامتی کونسل جیسے سنجیدہ اور باوقار فورم کو بے بنیاد پروپیگنڈے کے لیے استعمال کیا اور عالمی برادری کو گمراہ کرنے کی کوشش کی۔انہوں نے کہا کہ بھارت جموں و کشمیر کے متنازع علاقے پر غیر قانونی طور پر قابض ہے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی مسلسل خلاف ورزی کر رہا ہے۔ بھارت خود کشمیر کا تنازع لے کر سلامتی کونسل آیا تھا، لیکن اب ان ہی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔پاکستانی سفیر نے واضح کیا کہ بھارت منظم طور پر پاکستان میں دہشت گردی کی سرپرستی کرتا ہے، جبکہ خود بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ بدترین سلوک روا رکھا جاتا ہے، جس کی نشاندہی کئی بین الاقوامی ادارے کر چکے ہیں۔

عثمان جدون نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کی کوشش کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ یہ عمل بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے، بھارت پاکستان کو دریائے سندھ کے پانی سے محروم کرنا چاہتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ 7 سے 10 مئی کے درمیان بھارت نے پاکستان کے خلاف کھلی جارحیت کا مظاہرہ کیا، جس کا پاکستان نے دفاع کا حق استعمال کرتے ہوئے مؤثر اور ذمہ دارانہ جواب دیا۔ اس کارروائی کے دوران بھارت کے چھ جنگی طیارے تباہ کیے گئے اور دشمن کو نمایاں عسکری نقصان اٹھانا پڑا۔عثمان جدون نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ بھارت کو غرور اور بے لگام رویے سے باہر نکل کر حقائق کا سامنا کرنا ہوگا اور خود احتسابی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے رویے میں تبدیلی لانی چاہیے۔