پاکستان اور ایل سلواڈور کے درمیان کرپٹو تعاون پر دوطرفہ تعلقات قائم

پاکستان اور ایل سلواڈور کے درمیان کرپٹو تعاون پر دوطرفہ تعلقات قائم

پاکستان اور جنوبی امریکی ملک ایل سلواڈور نے پہلی بار کرپٹو کرنسی اور بلاک چین کے شعبے میں تعاون کی بنیاد پر دوطرفہ تعلقات استوار کر لیے ہیں۔

 اس اہم پیش رفت کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان ڈیجیٹل اثاثوں کے میدان میں شراکت داری کو فروغ دینا ہے۔اس سلسلے میں پاکستان کرپٹو کونسل کے چیف ایگزیکٹو اور وزیر اعظم کے معاونِ خصوصی برائے کرپٹو و بلاک چین بلال بن ثاقب نے ایل سلواڈور کا دورہ کیا، جہاں ان کی ملاقات صدر نایب بوکیلے سے ہوئی۔ ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے کرپٹو اور بلاک چین ٹیکنالوجی کے تجربات اور علم کے تبادلے پر بات چیت کی۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان، جو اب ڈیجیٹل اثاثوں کی سمت پیش رفت کر رہا ہے، آئی ایم ایف پروگرام کے تحت کرپٹو مارکیٹ میں شمولیت کے امکانات پر غور کر رہا ہے۔یاد رہے، ایل سلواڈور 2021 میں بٹ کوائن کو قانونی کرنسی کے طور پر اپنانے والا دنیا کا پہلا ملک بنا تھا۔ اب تک اس ملک نے 6,238 بٹ کوائنز خرید رکھے ہیں جن کی مجموعی مالیت 745 ملین ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔

بلال بن ثاقب کے مطابق، پاکستان میں اسٹیٹ بینک کی جانب سے انتباہات کے باوجود تقریباً 1.5 سے 2 کروڑ شہری کرپٹو اثاثے رکھتے ہیں۔ رواں سال مئی میں حکومت پاکستان نے پاکستان ڈیجیٹل ایسٹس اتھارٹی قائم کر کے کرپٹو ٹریڈنگ اور بلاک چین ٹیکنالوجی کو ریگولیٹ کرنے کا پہلا قدم اٹھایا۔اس سے قبل پاکستان کرپٹو کونسل اور ورلڈ لیبرٹی فنانشل (جو ٹرمپ فیملی سے منسلک ادارہ ہے) کے درمیان بھی بلاک چین ٹیکنالوجی کو اپنانے کے لیے ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے جا چکے ہیں۔یہ دوطرفہ تعاون پاکستان کے لیے ڈیجیٹل معیشت میں ایک تاریخی قدم تصور کیا جا رہا ہے، جو مستقبل میں بین الاقوامی کرپٹو شراکت داریوں کے دروازے کھول سکتا ہے۔
 

 
Ask ChatGPT