پنجاب کی جیلوں میں قیدیوں کی تعداد خطرناک حدتک بڑھ گئی گنجائش سے زیادہ قید

 صوبے کی 45 جیلوں میں ساڑھے 37 ہزار قیدیوں کی گنجائش ، 66 ہزار 700 سے زائد ، کیمپ جیل میں 2 ہزار کی گنجائش، 6 ہزار 300 سے زائد قیدی موجود
 کوٹ لکھپت جیل میں 2 ہزار 300 کی گنجائش،3 ہزار 500 سے زائد، اڈیالہ جیل میں 2 ہزار 100کے مقابلے میں 7 ہزار 100 قیدی رکھے گئے ہیں
لاہور(کرائم رپورٹر)لاہور سمیت پنجاب بھر کی جیلوں میں قیدیوں کی تعداد خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ جہاں گنجائش سے 70 فیصد زائد قیدی موجود ہیں۔مجموعی طور پر صوبے کی 45 جیلوں میں ساڑھے 37 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن ان میں اس وقت 66 ہزار 700 سے زائد قیدی رکھے گئے ہیں۔اعدادوشمار کے مطابق لاہور کی کیمپ جیل میں 2 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے تاہم یہاں 6 ہزار 300 سے زائد قیدی رکھے گئے ہیں۔ کوٹ لکھپت جیل میں 2 ہزار 300 قیدیوں کی گنجائش کے مقابلے میں 3 ہزار 500 سے زائد قیدی موجود  ہیں جبکہ راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں 2 ہزار 100کی گنجائش کے مقابلے میں 7 ہزار 100 قیدی رکھے گئے ہیں۔گرمی اور حبس کے موسم میں قیدیوں کے لیے بیرکس میں سانس لینا بھی دشوار ہو چکا ہے جبکہ صرف 9 چھوٹی جیلیں ایسی ہیں جہاں گنجائش سے کم قیدی موجود ہیں۔جیل حکام کا کہنا ہے کہ قیدیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث جیلوں کے انتظام میں شدید مشکلات درپیش ہیں۔ لاہور میں قیدیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر نئی جیل کی تعمیر کی تجویز کئی سالوں سے زیر التوا ہے تاہم اس پر تاحال کوئی عملی پیش رفت نہ ہو سکی۔