جیلوں میں گنجائش سے ڈبل قیدی

2ہزار کی گنجائش رکھنے والی کیمپ جیل لاہور میں 6ہزار 800 ،اڈیالہ جیل میں 7ہزار 796قیدی موجود
لاہور ( کرائم رپورٹر )پنجاب کی گنجان آباد جیلوں میں قیدیوں کا دم گھٹنے لگا،جیلوں میں گنجائش سے 2 گنا قیدی بند ہیں،بزرگ، خواتین قیدیوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے،قیدی سانس کی بیماریوں میں مبتلا ہونے لگے۔تفصیلات کے مطابق پنجاب کی 43 جیلوں میں 68 ہزار 140 قیدی بند ہیں جبکہ تمام جیلوں میں صرف 37ہزار 563 قیدی رکھنے کی گنجائش ہے،کیمپ جیل لاہور میں 2 ہزار قیدی رکھنے کی گنجائش لیکن وہاں 6800 قیدی بند ہیں،کوٹ لکھپت جیل میں 2360 قیدی رکھنے کی گنجائش ہے لیکن وہاں 3850 قیدی بند ہیں،2174 قیدی رکھنے کی گنجائش کی حامل اڈیالہ جیل راولپنڈی میں 7796 قیدی بند ہے۔پنجاب کی بڑی اضلاع کی سنٹرل اور ڈسٹرکٹ جیلوں میں گنجائش سے تین گنا زائد قیدی بھی بند ہیں،سموگ کے ماحول قیدیوں کو جیلوں میں سانس لینے میں دشواری کا سامنا ہے،کئی قیدی سانس کی بیماریوں میں مبتلا ہونے لگے ہیں ،محکمہ جیل خانہ جات نے لاہور سمیت پنجاب کے دیگر بڑے اضلاع میں نئی جیلوں کیلئے فنڈز مانگے تھے۔لاہور میں 10 ہزار قیدیوں کے گنجائش کی نئی جیل بنانی تھی لیکن لاہور میں نئی جیل کیلئے ایک روپیہ کے فنڈز بھی رواں سال مختص نہیں کئے گئے۔جیل حکام کے مطابق نئی جیلوں کے فنڈز کیلئے سمری آئندہ مالی سال میں دوبارہ بھجوائیں گے۔