کراچی کو وفاق کا حصہ بنایا جائےمصطفی کمال کیا پھر گل پلازہ جیسے واقعات نہیں ہونگے شرجیل میمن

اب بہت ہوچکا، 18 ویں ترمیم سے ہماری نسل کشی ہورہی ہے پیپلزپارٹی کی ناراضگی کی وجہ سے وزیراعظم چاہتے ہوئے بھی کچھ چیزیں نہیں کرسکتے: مصطفی کمال 
 بلدیہ فیکٹری کو جلایا گیا، 12 مئی کو لوگوں کو چن چن کر نشانہ بنایاگیا،؟ آپ پیپلزپارٹی پر الزامات لگائیں گے تو کیاہم جواب نہیں دینگے:شرجیل مین کی پریس کانفرنس
کراچی(آئی این پی )ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما اور وفاقی وزیر مصطفی کمال نے کہا ہے 18 ویں ترمیم کے تحت ہماری نسل کشی ہورہی ہے لہذا وفاقی حکومت آرٹیکل 148 کے تحت کراچی کو وفاق کا حصہ قرار دے۔کراچی میں بہادرآباد آفس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر مصظفی کمال نے کہا کہ یہ شہر ایسا نہیں تھا، کتنا خون دیں اور کتنے حادثات برداشت کریں، یہ اس شہر کے رہنے والوں کی نسل کشی ہورہی ہے، یہ نسل کشی کا مسئلہ ہے۔انہوں نے کہا کہ انسانوں کی تسلیاں کوئی اہمیت نہیں رکھتیں، ایم کیوایم بڑی جماعتوں میں سے ایک ہے،ہم اپنی ذمہ داری اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ ریاست نے کراچی کو کس کے حوالے کر رکھا ہے، پورا شہر سوال کر رہا ہے کہ آخر کچھ کیوں نہیں کیا جا رہا، کراچی کے عوام ریاست کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ وہ آگے بڑھ کر ان کی بات سنے، کراچی کے عوام کی نسل کشی کی جا رہی ہے۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ یہ نہ دیکھیں کہ کس لہجہ میں کہہ رہا ہے یہ دیکھیں کیا کہہ رہا ہے، ریاست  سے مطالبہ کرتے ہیں کراچی کو وفاق کا حصہ قرار دیا جائے۔انہوں نے کہا  18 سال سے آپ لوگوں کی حکمرانی ہے،  آپ اس طرح کے سانحات کا انتظار کرتے ہیں، ایم کیوایم کے میئر کے زمانے میں بھی آگ لگی ہے،  بولٹن مارکیٹ میں لگی آگ کس کو یاد نہیں،  وفاق  اور ریاست کے اداروں سے کہتاہوں، یہ شہر اور کتنی قربانی دے، وزیراعظم چاہتے ہوئے بھی شہر کیلئے کچھ نہیں کرسکتے، کیونکہ پیپلزپارٹی ناراض ہوجاتی ہے‘دریں اثناء و زیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن نے سوال کیا ہے  کیا اٹھارھویں ترمیم ختم کرنے سے گل پلازہ جیسے واقعات نہیں ہوں گے؟۔کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے  انہوں نے کہا یہ بات وہ لوگ کررہے ہیں یں جنہوں نے اپنے ہاتھ سے زندہ لوگوں کو بھتے کے چکر میں جلایا ہے، آپ آج بیٹھ کر سیاست کررہے ہیں، عجیب و غریب باتیں کررہے ہیں، الزامات لگا رہ یہیں،آپ کی اپنی سیاست کیا رہی ہے؟ آپ اگر پیپلزپارٹی پر الزامات لگائیں گے تو کیاہم جواب نہیں دیں گے۔انہوں نے کہ میں آپ کی طرح بات نہیں کروں گا، بلدیہ فیکٹری کو جلایا گیا، 12 مئی کو لوگوں کو چن چن کر نشانہ بنایاگیا، معصوم لوگوں کی جانیں لیں، آپ کے منہ سے ایسی باتیں اچھی نہیں لگتیں،  سانحہ عاشورہ کے بعد آپ نے بولٹن مارکیٹ کو آگ لگائی ،  یہ میں نہیں کہہ رہا ہوں اداروں کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے۔