وزیر دفاع خواجہ آصف نے پی ٹی آئی کی قیادت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی والے اپنے لیڈر کے ساتھ مخلص نہیں ہیں اور مذاکرات کے حوالے سے بھی ان کے موقف میں کوئی سنجیدگی نہیں۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے مذاکرات کے سلسلے میں کوئی نتیجہ نکلنے کا امکان نہیں تھا، اور ان کے ارکان کی جانب سے اس حوالے سے کوئی سنجیدہ موقف اختیار نہیں کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ علی امین گنڈاپور نے خود ہی یہ اعتراف کیا کہ پی ٹی آئی کے کچھ لوگ گمراہ ہوئے ہیں۔ خواجہ آصف نے اس بات پر بھی تنقید کی کہ پی ٹی آئی قیادت جوڈیشل کمیشن بنانے کی بات کر رہی ہے، حالانکہ جن افراد کو سزائیں ہو چکی ہیں، انہوں نے خود ہی اپنے جرائم کا اعتراف کیا ہے۔
خواجہ آصف نے اپنی قید کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب انہیں قید کیا گیا تھا، تو ان کے پاس صرف ایک کمبل تھا، مگر اس کے باوجود انہوں نے کبھی ملک کے نقصان کے بارے میں نہیں سوچا۔ وزیر دفاع نے مزید کہا کہ سوشل میڈیا پر پابندی کی منظوری کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے کیونکہ دنیا کے کئی ملکوں میں سوشل میڈیا پر پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں، اور امریکا میں بھی ایسا ہو رہا ہے۔