دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پاکستان نے بھاری جانی و مالی نقصان اٹھایا ہے: منیر اکرم

 افریقی ممالک کے ساتھ انسداد دہشت گردی کے اپنے تجربات کا اشتراک کرنے کو تیار ہیں، سلامتی کونسل اجلاس سے خطاب 
نیو یارک (آن لائن)اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم  نے کہا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بھاری جانی و مالی نقصان اٹھایا ہے ۔ جنگ میں 80 ہزار جانوں کی قربانیاں دی گئی ہیں ۔ امن اور استحکام کی بحالی کی کوششوں کی حمایت میں افریقی ممالک کے ساتھ انسداد دہشت گردی کے اپنے تجربات کا اشتراک کرنے کو تیار ہیں ۔ سلامتی کونسل کے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں براعظم افریقا میں انسداد ہشت گردی کے موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گذشتہ چار دہائیوں سے پاکستان عالمی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صف اول میں رہا ہے۔القاعدہ اور دیگر دہشت گرد گروپوں کے خلاف ملک کی کامیابیوں کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان برادر افریقی ریاستوں کے ساتھ اس حوالہ سے اپنے تعاون کو مضبوط کرنے کا خواہاں ہے،اس حوالے سے سلامتی کونسل کے اندر اور اقوام متحدہ کے انسداد دہشت گردی کے دفتر کے ساتھ مل کر اپنے افریقی شراکت داروں کے ساتھ انسداد دہشت گردی کے تجربے کا اشتراک کرنے اور ضروری ادارہ جاتی ڈھانچے قائم کرنے اور پائیدار امن اور استحکام کو بحال کرنے کی کوششوں بارے افریقا کی استعداد کار بڑھانے کو تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کا مقابلہ کرتے ہوئے بھاری قیمت ادا کی ہے، شام اور عراق میں داعش کو ختم کر دیا گیا لیکن اس کی ذیلی تنظیموں نے افغانستان اور ساحل کے علاقوں میں سر اٹھایا ہے۔مندوب نے کہا کہ ہمیں دہشت گردی کے خطرے سے مل کر عالمی انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی پر مبنی ایک جامع اور مربوط حکمت عملی کے ذریعے نمٹنا چاہیے ، ہم سب اس لڑائی میں ایک ساتھ ہیں۔