کیف: روس نے ایک بار پھر یوکرین پر بڑے پیمانے پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں، جس کے نتیجے میں توانائی، ریلوے اور رہائشی عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
یہ حملے روس کی جانب سے یوکرین پر جاری جنگ کی چوتھی برسی سے چند روز قبل کیے گئے ہیں، جو خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا رہے ہیں۔یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے بتایا کہ روس نے ایک ہی رات میں تقریباً 50 میزائل اور 300 ڈرون فائر کیے، جن کا ہدف بنیادی طور پر توانائی کا شعبہ تھا۔ حملوں کے نتیجے میں دارالحکومت کیف اور اس کے نواحی علاقے متاثر ہوئے، جہاں ایک شخص ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے، جن میں بچے بھی شامل ہیں۔ کئی رہائشی عمارتیں بھی نقصان سے دوچار ہوئیں۔ادھر روسی حکام کا دعویٰ ہے کہ حملوں میں یوکرین کی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ دوسری طرف، ماسکو کے میئر سرگئی سوبینن نے بتایا کہ یوکرین کی جانب سے داغے گئے تقریباً 20 ڈرون ماسکو کی طرف آتے ہوئے تباہ کر دیے گئے، جس کے باعث کچھ دیر کے لیے ماسکو کے ہوائی اڈوں کی پروازیں معطل رہیں۔
یوکرین کی وزارتِ توانائی کے مطابق مشرقی اور جنوبی علاقوں میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی ہے۔ اسی دوران، مغربی شہر لیوو میں ایک دھماکے کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار ہلاک اور کئی افراد زخمی ہوئے۔ مقامی حکام نے اس واقعے کو دہشت گردی قرار دیتے ہوئے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب خطے میں کشیدگی اپنی انتہا پر ہے، اور یہ حملے روس کے یوکرین پر مکمل حملے کی چوتھی برسی کے قریب کیے گئے ہیں، جو خطے میں مزید کشیدگی اور عدم استحکام کا سبب بن رہے ہیں۔