امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے ایک تقریر کے دوران رمضان المبارک کے فضائل اور اہمیت پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے کہا کہ روزہ دل میں تقویٰ پیدا کرتا ہے، جو کہ غلط کاموں سے روکنے کا سبب بنتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے حضور ہماری موجودگی کا احساس دلاتا ہے۔ حافظ نعیم الرحمٰن نے اس بات پر زور دیا کہ ماہ رمضان اللہ تعالیٰ کی جانب سے ایک رحمت ہے، یہ مہینہ ہمیں اپنی روحانی اور اخلاقی تربیت کا موقع فراہم کرتا ہے اور ہمارے گناہوں سے مغفرت کا ذریعہ ہے۔انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ زندگی کے ہر معاملے میں ہمیں اللہ کا خوف اور تقویٰ اپنانا چاہیے۔ بعض لوگ دن رات اللہ کے حکم کی نافرمانی کرتے ہیں مگر ظاہری مذہبی لباس اور رسم و رواج کے پیچھے چھپ جاتے ہیں۔ حافظ نعیم الرحمٰن نے رمضان کے مہینے میں اللہ تعالیٰ سے عہد کرنے اور اس کی بندگی کرنے کی ترغیب دی، تاکہ انسان اپنی زندگی میں مثبت تبدیلی لا سکے۔
مزید انہوں نے کہا کہ رمضان میں قرآن پاک کے ساتھ تعلق مضبوط کر کے زندگی میں تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اسی مقصد کے لیے قائم کیا گیا تھا کہ یہاں قرآن کا نظام نافذ کیا جائے گا۔ قرآن کے نظام کا بنیادی مقصد عدل و انصاف قائم کرنا ہے، تاکہ معاشرے میں ظلم و ناانصافی کا خاتمہ کیا جا سکے۔ حافظ نعیم الرحمٰن نے زور دیا کہ اگر قرآن کا نظام نافذ کیا جائے، تو کوئی بچہ تعلیم سے محروم نہیں رہے گا، کوئی حق نہیں مارا جائے گا اور سب کے لیے مساوی مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ قرآن کا نظام معاشرے میں امن، انصاف اور ترقی کے لیے بنیادی ستون ہے، اور ہمیں اس کے عملی نفاذ کے لیے جدوجہد کرنا چاہیے۔