نیشنل بینک ملازمین کو دئیے گئے قرضوں کی ریکوری کی تحقیقات شروع

 سرکاری بینک کو ہونے والے دوہرے نقصان پر نیشنل بینک کے کمپلائنس ڈیپارٹمنٹ کو نوٹس جاری
  اسلام آباد (آئی این پی )وفاقی تحقیقاتی ادارے نے نیشنل بینک آف پاکستان کی جانب سے اپنے ہی ملازمین کو قرضے دینے اور پھر قرضوں کی وصولی کے لیے وکلا ء کو بھاری رقوم ادا کرنے کے معاملے کی تحقیقات کا آغاز کردیا۔ میڈیارپورٹ کے مطابق ادارے کے کمرشل بینک سرکل نے سرکاری بینک کو ہونے والے دوہرے نقصان پر نیشنل بینک کے کمپلائنس ڈیپارٹمنٹ کو نوٹس جاری کردیا ۔ایف آئی اے نے نیشنل بینک آف پاکستان سے ایسے معاملات میں انتظامیہ کی طرف سے عام طور پر کیے جانے والے اقدامات کی وضاحت طلب کی ہے جب کہ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ملازمین کو قرض دیتے وقت بینک کے ذریعہ حاصل کردہ ضمانت کے بارے میں بھی تفصیلات فراہم کی جائیں۔ایف آئی اے نے یہ تحقیقات اس وقت کیں جب متعدد افراد نے شکایت کی کہ نیشنل بینک آف پاکستان، قرضوں کی وصولی کے لیے ہائر کردہ وکلا سے متعلق تفصیلات سامنے نہیں لارہا ہے، ان افراد کی جانب سے رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کے تحت جمع کرائی گئی درخواستوں کے جواب میں بینک نے کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔