گلگت بلتستان : گلیشئر پھٹ گیا ، کئی دیہات زیر آ ب

چرواہوں کی بروقت اطلاع، 200 افراد کو بچا لیا گیا،تالی داس نالہ میں لینڈ سلائیڈنگ،رائوشن گائوں کی آبادی محصور
 گلگت شندور روڈ بند ، غذر میں پاک فوج کا ریسکیو اور ریلیف آپریشن شروع ،غذر میں عارضی جھیل پھٹنے کا خدشہ 
 غذر،گلگت ، اسلام آباد،لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک)گلگت بلتستان کے ضلع غذر میں گلیشیئر پھٹنے کے باعث آنے والے سیلاب نے ایک بار پھر تباہی مچا دی اور متعدد دیہات زیر آب آ گئے۔70 سے زائد مکانات مکمل طور پر تباہ ہوگئے۔ضلعی انتظامیہ کا بتانا ہے کہ لینڈسلائیڈنگ سے گلگت شندور روڈ مکمل طور پر بند ہو گیا ، تالی داس نالہ میں لینڈ سلائیڈنگ دو اطراف سے ہوئی، لینڈسلائیڈنگ سے رائوشن گائوں کی آبادی محصور ہوگئی۔وزیر داخلہ جی بی شمس لون کا کہنا ہے کہ سیلاب نے غذر میں ایک بار پھر تباہی مچادی تاہم ابھی تک کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ، کچھ لوگوں کے پھنسنے کی اطلاع تھی جنہیں ریسکیو کرنے کے لیے ہیلی کاپٹر طلب کیا گیا۔ریسکیو 1122 کے ایک بیان میں کہا گیا کہ 200 افراد کو سیلاب سے متاثرہ علاقوں سے نکال کر غذر کے یانگل اور سمل علاقوں میں منتقل کیا گیا ہے، غذر میں عارضی جھیل پھٹنے کا خدشہ ہے۔ پاکستان میں 13 ہزار 32 سے زائد گلیشئر موجود ہیں جو قطبی علاقوں کے بعد سب سے بڑے ذخائر ہیں، تاہم ماہرین نے خبردار کیا کہ چترال اور گلگت بلتستان میں تقریباً 10 ہزار گلیشئرز موسمیاتی تبدیلی کے باعث درجہ حرارت بڑھنے سے تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ریسکیو 1122 نے کہا تھا کہ گپیس وادی کے تلی داس اور رائوشن دیہات میں رات گئے گلیشئر پھٹنے کا ہولناک واقعہ پیش آیا جس سے زیریں علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ۔ دریائے غذر کئی گھنٹوں تک مکمل طور پر بند رہا جس سے زیریں علاقوں کے لیے خطرات بڑھ گئے اور دریائے غذر میں شدید سیلاب کے امکانات پیدا ہو گئے تھے۔گلگت بلتسان کے سیکرٹری فدا حسین نے کہا کہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور تمام متاثرہ لوگ محفوظ ہیں، سیلاب نے تلی داس اور رائوشن دیہات کے زیریں علاقوں میں سب کچھ بہا دیا۔ سب سے پہلے مقامی رضاکاروں نے لوگوں کو سیلابی پانی سے بچایا جس کے بعد پاک فوج کے ہیلی کاپٹر آپریشن میں شامل ہوئے، زیادہ درجہ حرارت کے باعث جھیل پھٹ گئی اور سادو نالے میں شدید سیلاب آیا۔انہوں نے کہا کہ کچھ چرواہوں نے مقامی کمیونٹی کو سیلاب کی اطلاع دی، خطرناک علاقوں میں موجود افراد کو فوری طور پر دوسری جگہوں پر منتقل کیا گیا۔مقامی لوگوں کے مطابق 80 فیصد گائوں بہہ گیا ، ایک مقامی شخص عبدالوحید نے بتایا کہ کچھ چرواہوں جو گلیشئر کے قریب رہ رہے تھے نے موبائل فون کے ذریعے زیریں علاقوں میں لوگوں کو سیلاب کے بارے میں اطلاع دی اور انہیں نکلنے کی تلقین کی۔مقامی انتظامیہ کے مطابق غذر دریا 8 گھنٹے بند رہنے کے بعد سیلابی ملبے کے اوپر سے بہنا شروع ہو گیا۔جی بی حکومت کے ترجمان فیض اللہ فراق نے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں پھنسے لوگوں کو نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا،دریائے غذر کا بہائو کئی گھنٹوں سے رکا ہوا ہے تاہم اگر یہ ٹوٹا تو نشیبی علاقوں کو خطرہ لاحق ہوگا۔جی بی کے وزیر قانون، پارلیمانی امور اور سیاحت غلام محمد نے کہا کہ گلیشیائی جھیل پھٹنے سے آنے والے سیلاب کے باعث 70 مکانات مکمل طور پر تباہ ہوگئے، جب کہ دریا کا پانی ملبے کی وجہ سے رکا ہوا ہے اور اس کی سطح بلند ہو رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر دریا کا بہائو بحال نہ ہوا تو سیکڑوں بڑے گھر زیرِ آب آ سکتے ہیں، وزیراعلیٰ حاجی گلبر خان نے کہا کہ انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے تمام دستیاب وسائل استعمال کیے جائیں گے اور پاک فوج سے مدد طلب کی جائے گی۔انہوں نے گلگت اور غذر پولیس حکام اور متعلقہ محکموں کو ہدایت دی کہ دریا کے قریب آباد بستیوں میں حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا جائے۔وزیراعلیٰ کے معاونِ خصوصی برائے اطلاعات ایمان شاہ نے کہا کہ حکام نے ابتدائی امدادی اور ریسکیو سرگرمیاں شروع کر دی ہیں، دریائے غذر کے زیریں علاقوں کے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں کیوں کہ غذر میں عارضی جھیل پھٹنے کا خدشہ ہے۔ ترجمان جی بی حکومت کے مطابق 7 کلومیٹر کے علاقے تک مصنوعی جھیل بن چکی ہے اورایک کلومیٹر کی سڑک ریلوں میں بہہ گئی ہے۔گلگت بلتستان اسمبلی کی ڈپٹی سپیکر سعدیہ دانش نے کہا کہ یہ سانحہ گلگت بلتستان میں موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے خطرات کی ایک مثال ہے۔ اس حادثے میں 100 سے زائد گھرانے مکمل طور پر تباہ ہوگئے۔مقامی چرواہوں کی بروقت اطلاع اور مقامی لوگوں کی بیداری کے باعث انسانی جانوں کا ضیاع نہ ہونا باعثِ اطمینان ہے۔علاوہ ازیں نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی(این ڈی ایم اے )نے کہا ہے کہ تربیلا ڈیم پر نچلے درجے کے سیلاب کا امکان ہے، عوام آبی گزرگاہوں کے قریب جانے سے پرہیز کریں اور مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کریں۔لاہور کے مختلف علاقوں میں موسلا دھار بارش سے حبس کا زور ٹوٹ گیا۔گلبرگ ،ماڈل ٹائون ،جوہر ٹائون ، گارڈن ٹائون اور مال روڈ پر بارش سے موسم سہانا ہوگیا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سمیت پنجاب، خطہ پوٹھوہار،خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور کشمیر میں تیز ہوائوں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے تاہم شام /رات کے اوقات میں بالائی خیبر پختونخوا، کشمیر، اسلام آباد، خطہ پوٹھوہار اور شمال مشرقی پنجاب میں چند مقامات پر تیز،موسلادھار بارش کے ساتھ ساتھ شام اوررات کے اوقات میں جنوبی پنجاب، شمال مشرقی،جنوبی بلوچستان اور جنوب مشرقی سندھ میں تیز ہوائوں اور گرج چمک کے ساتھ چند مقامات پر بارش کی توقع ہے۔ محکمہ موسمیات نے متنبہ کیا ہے کہ جمعہ کی رات سے لے کر ہفتہ 24 اگست کے دوران شدید موسلادھار بارشوں کے باعث چترال، دیر، سوات، شانگلہ، بونیر، کوہستان، مانسہرہ، ایبٹ آباد، چارسدہ، نوشہرہ، صوابی، مردان، مری، گلیات، اسلام آباد،راولپنڈی، شمال مشرقی پنجاب، کشمیر، ڈیرہ غازی خان اور اس سے ملحقہ مقامی ،برساتی ندی نالوں میں طغیانی کا خطرہ ہے۔ پی ڈی ایم اے خیبرپختونخوا کے تر جمان کے مطابق خیبرپختونخوا میں بارشوں اور سیلاب سے ہونے والی اموات کی تعداد 427 ہوگئی جس میں بونیر سب سے زیادہ متاثر ہ ضلع ہے۔ وزیراعلٰی پنجاب مریم نوازنے ممکنہ بارشوں کے پیش نظر لاہور،راولپنڈی، ملتان، بہاولپور، ڈیرہ غازی خان، سرگودھا، گجرات اور گوجرانوالہ کے اضلاع میں پیشگی انتظامات کرنے کیلئے کمشنرزوڈپٹی کمشنرز کو الرٹ رہنے کا حکم دے دیا۔ پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے مون سون بارشوں کے آٹھویں سپیل کے پیشِ نظر صوبہ بھر کے کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو الرٹ جاری کر دیا ہے۔ ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق23 اگست کی رات سے مغربی ہوائیں صوبے کے بالائی علاقوں میں داخل ہوں گی جس کے نتیجے میں 23 سے 27 اگست تک شدید طوفانی بارشوں کا امکان ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق راولپنڈی، مری، گلیات، اٹک، چکوال، جہلم، منڈی بہا والدین، گجرات، گوجرانوالہ، حافظ آباد اور وزیر آباد میں شدید بارشوں کا امکان ہے۔