جنگ بندی کیلئے بھارت نے امریکہ سے درخواست کی تھی اسحاق ڈار

مجھے واشنگٹن سے فون آیا تھا‘پاکستان نے کسی سے رابطہ نہیں کیا، ہم جنگ چاہتے ہی نہیں تھے، بھارت کے ساتھ مسئلہ کشمیر پر جامع مذاکرات کیلئے تیار ہیں، بھارت کی جانب سے بلاوجہ بیان بازی جاری رہتی ہے
وزیر اعظم شہباز شریف آئندہ ہفتے چین کا دورہ کریں گے، ایس سی او اجلاس میں شریک ہوں گے،  آج بنگلہ دیش جائوںگا،میرے  دورے کامقصددونوں ممالک کو   مزید  قریب لانا ہے:نائب وزیر اعظم کی  سینئرصحافیوں سے گفتگو
اسلام آباد(آئی این پی )نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار  نے کہا ہے   پاک بھارت جنگ بندی پر عمل جاری ہے، بھارت نے امریکہ سے جنگ بندی کیلئے درخواست کی تھی، پاکستان نے کسی سے رابطہ نہیں کیا تھا، بھارت کے ساتھ مسئلہ کشمیر سمیت جامع مذاکرات کیلئے تیار ہیں ،وزیر اعظم شہباز شریف آئندہ ہفتے چین کا دورہ کریں گے جہاں وہ ایس سی او اجلاس میں شریک ہوں گے جبکہ امریکی وزیرخارجہ  مارکو روبیو کا دورہ پاکستان ابھی شیڈول نہیں ہے۔ان  خیالات کااظہار انہوں نے سینئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے  کیا۔ نائب وزیر اعظم نے واضح کیا کہ جنگ بندی کیلئے بھارت نے امریکا سے درخواست کی تھی، جنگ بندی کیلئے مجھے امریکا سے فون آیا تھا، میں نے واضح کردیا تھا کہ پاکستان جنگ چاہتا ہی نہیں تھا، ہم نے کسی سے نہیں کہا تھا کہ ہمیں بھارت کے ساتھ بٹھائیں، کسی نیوٹرل مقام پر مل بیٹھنے کیلئے بات کی گئی تھی، میں نے کہا تھا کہ اگر نیوٹرل مقام پر میٹنگ ہوگی تو کرلیں گے۔اسحاق ڈار نے کہا کہ امریکا پر واضح کردیا تھا کہ بھارت کے ساتھ کسی ایک نکاتی ایجنڈے پر بات نہیں ہوگی، بھارت کے ساتھ مسئلہ کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب امور پر بات ہوگی، بھارت کی جانب سے بلاوجہ بیان بازی جاری رہتی ہے۔نائب وزیراعظم  نے کہا کہ شہباز شریف 30 اگست کو چین جائیں گے جس کا مقصد ایس سی او اجلاس میں شرکت کرنا ہے۔انہوں نے   امریکی وزیر خارجہ کے دورہ پاکستان کی تردیدکرتے ہوئے کہا  کہ امریکا کے وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان ابھی طے شدہ نہیں ہے۔اسحاق ڈار نے کہا کہ وہ آج بنگلہ دیش کے دو روزہ دورے پر روانہ ہوں  گے  دورے کا مقصد پاکستان اور بنگلہ دیش کو مزید  قریب لانا ہے۔ڈھاکا کے دورے کے بعد  وہ سعودی عرب روانہ ہو جائیں گے،  جہاں  جدہ میں او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس میں شرکت کریں گے