نشتر کالونی سے اغواء ہونیوالا فیاض 9 فروری کو سواری لے کر سندھ گیا تھا
لاہور (کرائم رپورٹر) لاہور کے علاقے نشتر کالونی سے اغواء ہونے والے ٹیکسی ڈرائیور فیاض کی لاش اڑھائی ماہ بعد سندھ کے علاقے ٹنڈو اعظم سے برآمد کر لی گئی۔ سندھ پولیس نے قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد لاش ورثاء کے حوالے کر دی۔پولیس کے مطابق فیاض کے اغواء کا مقدمہ تھانہ نشتر کالونی میں ان کی اہلیہ نائلہ کے بیان پر درج کیا گیا تھا۔ مقدمے کے متن کے مطابق فیاض نشتر کالونی کے رہائشی تھے اور ناصر نامی شخص کے پاس ملازم کی حیثیت سے گاڑی چلاتے تھے۔مدعیہ کے مطابق فیاض 9 فروری کو سواری لے کر سندھ کے علاقے ٹنڈو اعظم گئے تھے۔ واقعے کے بعد دو روز تک فیاض سے رابطہ رہا، تاہم بعد ازاں ان کا موبائل فون بند ہوگیا اور وہ لاپتہ ہوگئے۔مقدمے میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ملزم ناصر وقوعہ کے بعد گاڑی واپس لے آیا، مگر فیاض گھر واپس نہ لوٹے، جس کے بعد اغواء کا مقدمہ درج کیا گیاسندھ پولیس کے مطابق فیاض کی لاش برآمد ہونے کے بعد ضابطے کی کارروائی مکمل کی گئی اور میت اہلخانہ کے حوالے کر دی گئی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں اور جلد اصل ملزمان کا سراغ لگا لیا جائے گاپولیس حکام کے مطابق واقعہ اغواء اور قتل کے ممکنہ محرکات جاننے کے لیے دونوں صوبوں کی پولیس رابطے میں ہے، جبکہ تفتیش کا دائرہ بھی وسیع کیا جا رہا ہے۔