مقبوضہ کشمیر میں حالیہ حملے کے بعد بھارتی میڈیا کا پاکستان مخالف پروپیگنڈہ ایک بار پھر بے نقاب ہوگیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، بھارتی میڈیا کا وطیرہ یہ بن چکا ہے کہ ہر دہشتگرد حملے کے بعد بغیر کسی ثبوت کے پاکستان پر الزام لگایا جائے، سچ چھپایا جائے اور عوام کو گمراہ کیا جائے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پہلگام حملے کے بعد، بھارتی خفیہ ایجنسی "را" سے جڑے سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے حملے کے صرف 2 منٹ بعد پاکستان پر الزام لگانا شروع کر دیا تھا۔ اس کے بعد 30 منٹ کے اندر بھارتی سوشل میڈیا پر #PakSponsoredTerror کے ٹوئٹس کا آغاز ہوگیا۔ 1 گھنٹے کے اندر، بھارتی سیاستدانوں جیسے جے پی نڈڈا اور امت شاہ نے بھی اپنے ٹوئٹس کی بھرمار کردی۔رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ حملے کے بعد چند گھنٹوں میں جعلی انٹیلیجنس رپورٹس لیک کی گئیں جنہیں بھارتی میڈیا نے بغیر کسی تصدیق کے رپورٹ کیا۔ حیرت انگیز طور پر، حملے کے 15 منٹ بعد ہی 500 بھارتی اکاؤنٹس سے ایک جیسے ٹوئٹس کئے گئے اور #PakistanTerrorError ٹاپ ٹرینڈ بن گیا۔دفاعی ماہرین نے بھارتی میڈیا کے اس رویے پر سوالات اٹھائے اور کہا کہ بھارتی میڈیا نے کیوں اس حملے میں ہلاک ہونے والے افراد کی لاشوں کو نہیں دکھایا؟ انہوں نے مزید کہا کہ بھارتی میڈیا نے جھوٹا پروپیگنڈہ کرتے ہوئے اپنے بیانیے کو تقویت دینے کی کوشش کی، لیکن ان الزامات کے ساتھ کوئی حقیقی ثبوت نہیں پیش کیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ حملے ہمیشہ اس وقت ہوتے ہیں جب بھارت کی بین الاقوامی سطح پر اہم سیاسی سرگرمیاں جاری ہوتی ہیں یا جب کوئی اہم عالمی قیادت ہندوستان کا دورہ کرتی ہے۔ بھارت کے اندر 9 لاکھ فوج کے باوجود یہ حملے کیسے ممکن ہیں؟ کیا بھارت اپنے ماضی کے "فالس فلیگ آپریشنز" سے کچھ نہیں سیکھ سکا؟یہ سوالات بھارتی میڈیا اور حکومت کو جواب دینے پر مجبور کرتے ہیں تاکہ دنیا ان کی من گھڑت کہانیوں پر یقین کرے۔ بین الاقوامی سطح پر بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب ہو چکا ہے، جس میں اس کی دہشت گردی کی سرپرستی اور ماضی میں سکھوں کا قتل شامل ہے۔