ملتان: پیٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کا سپر لانگ مارچ تیسرے روز میں داخل ہوگیا۔ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن ملتان میں قیادت سے مشاورت کے بعد آج احتجاج اور لانگ مارچ کے آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے گزشتہ شب ملتان پہنچنے والے حافظ نعیم الرحمن سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور لانگ مارچ کو چند روز کے لیے مؤخر کرنے کی درخواست کی۔ وزیراعظم کی جانب سے وطن واپسی پر جماعت اسلامی کی قیادت سے ملاقات اور پیٹرولیم لیوی کے معاملے پر مزید بات چیت کے ساتھ عوام کے لیے بہتر ریلیف پیکیج پر غور کی یقین دہانی بھی کرائی گئی۔جماعت اسلامی کے ترجمان کے مطابق حافظ نعیم الرحمن نے وزیراعظم کو بتایا کہ جماعت اسلامی حکومت سے تصادم یا امن و امان کا مسئلہ پیدا نہیں کرنا چاہتی، تاہم احتجاج عوامی مطالبات کے لیے کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مارچ مؤخر کرنے کی درخواست پر قیادت سے مشاورت کے بعد فیصلہ کیا جائے گا، تاہم احتجاج کے حق سے دستبرداری نہیں ہوگی۔حافظ نعیم الرحمن کا مؤقف ہے کہ حکومت کی جانب سے اعلان کردہ ریلیف پیکیج جماعت اسلامی کے مطالبات کو پورا نہیں کرتا اور پیٹرولیم لیوی کے خاتمے تک احتجاج جاری رکھنے کا مؤقف برقرار ہے۔
جماعت اسلامی اس معاملے پر حکومت سے مزید اقدامات کا مطالبہ کر رہی ہے۔دوسری جانب حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان عوامی ریلیف اور پیٹرولیم لیوی کے معاملے پر مذاکرات بھی جاری رہے ہیں۔ بعض رپورٹس میں حکومت کی جانب سے مزید ریلیف پر غور کیے جانے کا ذکر ہے، تاہم پیٹرولیم لیوی کے ایک سال کے لیے خاتمے سے متعلق حتمی سرکاری فیصلہ تاحال سامنے نہیں آیا۔جماعت اسلامی کا سپر ٹرین لانگ مارچ کراچی سے روانہ ہو کر ملتان پہنچ چکا ہے، جہاں حافظ نعیم الرحمن نے کارکنوں سے خطاب بھی کیا۔ شیڈول کے مطابق ملتان سے سڑک کے ذریعے قافلہ لاہور کی جانب روانہ ہوگا، جبکہ مارچ کے آئندہ مرحلے کے حوالے سے جماعت اسلامی کی قیادت کے مشاورتی فیصلے کے بعد اعلان متوقع ہے۔اب تمام نظریں حافظ نعیم الرحمن کے آج کے اعلان پر ہیں، جس میں حکومت کی درخواست، جماعت اسلامی کی قیادت سے مشاورت اور پیٹرولیم لیوی کے خاتمے کے مطالبے کو مدنظر رکھتے ہوئے احتجاج کے آئندہ مرحلے کا فیصلہ سامنے آنے کا امکان ہے۔