جنوبی پنجاب میں وارننگ سنجیدہ نہ لینے سے زیادہ نقصان ہوا:عرفان علی کاٹھیا

 لاہور (خصوصی رپورٹ ) پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے)کے ڈائریکٹر جنرل عرفان علی کاٹھیا نے حالیہ سیلاب کو 1956 کے بعد سب سے بڑا سیلاب قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس دوران تمام اداروں نے مل کر کام کیا تاہم جنوبی پنجاب میں زیادہ نقصان اس لئے ہوا کہ وہاں لوگوں نے انتظامیہ کی وارننگ کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ ایک انٹرویو میں عرفان علی کاٹھیا نے بتایا کہ اس سال 1956 کے بعد سب سے بڑا سیلاب آیا ہے، پنجاب کے تین دریا ستلج، چناب اور راوی میں ایک ہی وقت گنجائش سے زیادہ پانی سے نمٹنا بہت مشکل کام تھا۔عرفان علی کاٹھیا نے بتایا کہ سب سے زیادہ نقصان دریائے چناب میں ہیڈ قادرآباد کے مقام پر ہوا جہاں پانی کی سطح ساڑھے دس لاکھ کیوسک سے زائد ہوئی جبکہ وہاں پانی گزرنے کی گنجائش نو لاکھ کیوسک ہے۔ راوی میں ہیڈ سدھنائی کے مقام پر گنجائش ڈیڑھ لاکھ ہے جبکہ پانی دو لاکھ کیوسک سے بھی زیادہ آ گیا، پھر ستلج میں پانی کی سطح ساڑھے تین لاکھ سے زیادہ رہی جس سے گنڈا پور میں کئی دن تک سطح خطرناک حد تک رہی۔پی ڈی ایم اے سربراہ کے مطابق اس بار سیلاب نے زیادہ تباہی اس لیے مچائی کہ دریائے چناب میں پانی کی سطح کئی دن بلند رہی، اس دریا میں راوی سدھنائی سے شامل ہوتا ہے جبکہ ستلج جلالپور پیروالہ کے مقام پر اس میں شامل ہوتا ہے، ان دونوں دریائوں کا پانی چناب میں سطح بلند ہونے پر آگے جا نہیں سکا بلکہ چناب کا پانی واپس ان دریائوں میں آ گیا، جس سے کئی مقامات پر شگاف ڈال کر ہیڈ ورکس بچانا پڑے۔