پروفیسر حکیم سید عمران فاض
عوام اس بار اپنا79 واں یوم آزادی ملی جوش و جذبہ سے منا رھی ھے۔ 14 اگست کی صبح کا آغاز وفاقی دارالحکومت میں 31 توپوں اور صوبائی دارالحکومت میں 21 توپوں کی سلامی سے کیا جائے گا۔ جبکہ حسب سابق پورے ملک میں قومی پرچم اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ سرکاری و نیم سرکاری عمارتوں پر لہرائے گا۔ اس کے ساتھ ھی الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا خصوصی پروگرامز و ایڈیشن شائع کریں گے۔
14 اگست جشن آزادی ھمیں اپنے اسلاف کی انمول قربانیوں کی یاد دلاتا ھے۔ یہ دن ھمیں قائداعظم محمد علی جناح اور ان کے ساتھیوں کی لازوال و انمٹ جدوجہد کی یاد تازہ کرواتا ھے۔اس عظیم دن وطن عزیز کے عوام اپنی تکلیفوں کو بھول کر اپنے آباؤ اجداد کی عظیم قربانیوں کو یاد کرتے ھیں۔ جشن آزادی کے دن عوام کو انکی تکلیفوں اور پریشانیوں سے نکالنے والے مسیحا کہاں ھیں۔ خدا کیلئے انکو ان تکلیفوں سے کون نجات دلوائے گا۔ بجلی۔ گیس . پٹرول . اشیائے خوردونوش اور ادویات عوام کی پہنچ سے دور بیش بہا بلز کا مداوا کون کرے گا۔
پاکستان کو آزادی حاصل کیے 79 سال ھو گئے ھیں لیکن اسکو مہنگائی اور بے روزگاری کے عفریب سے نجات کب ملے گی۔ اس کے پسے ھوئے طبقے کو انکا حق کب ملے گا۔ ملک میں قانون کی حکمرانی کب ھوگی۔ کم از کم 40,000 تنخواہ 8 گھنٹے ڈیوٹی پر عملدرآمد کب ھوگا۔
اس جشن آزادی پر ھمیں حکومتی ایوانوں سے عوامی ریلیف کی توقع ھے۔ تاکہ اس وطن عزیز کے پسے ھوئے عوام اپنی زندگی میں آسانیاں دیکھ سکیں۔پاکستان قائدد اعظم محمد علی جناح کی عظیم سوچ اور شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کا خواب تھا۔جو ان کے جانثاروں۔ بہادروں۔ مجاھدوں۔ غازیوں۔ اور شہیدوں کی عظیم قربانیوں کا ثمر ھے۔ آج ھم خدائے ذوالجلال کی بارگاہ ایزدی میں سجدہ ریز ھو کر جس قدر بھی شکر ادا کریں وہ کم ھے۔آج وطن عزیز کی آزاد فضائیں اس بات کی گواہی دے رہی ھیں کہ ھم اپنے اکابرین کی قربانیوں۔ بے لوث جذبوں اور انمٹ قربانیوں کی بدولت آج ایک آزاد وطن آزاد فضا ?ء اور آزاد سرزمین پر موجود ھیں۔ ھمارا سبز ہلالی پرچم ھمارے اسلاف کی انمٹ قربانیوں کی داستان رقم کیے ھوئے ھے۔ 14 اگست 1947 وطن عزیز کی آزادی کا دن ھمارے لئے تحفہ خداوندی سے کم نہ ھے۔
پاکستان کے قومی پرچم کا ڈیزائن امیر الدین قدوائی نے قائد اعظم کی ہدایت پر مرتب کیا تھا۔ یہ گہرے سبز اور سفید رنگ پر مشتمل ہے جس میں تین حصے سبز اور ایک حصہ سفید رنگ کا ہوتا ہے۔ سبز رنگ مسلمانوں اور سفید رنگ پاکستان میں رہنے والی اقلیتوں کو ظاہر کرتا ہے جبکہ سبز حصے کے بالکل درمیان میں چاند(ہلال) اور پانچ کونوں والا ستارہ ہوتاہے، سفید رنگ کے چاند کا مطلب ترقی اور ستارے کا مطلب روشنی
اور علم کو ظاہر کرتا ہے۔پاکستان کا قومی ترانہ پہلی بار 1954 میں نشر ہوا۔اسکی دھن احمد جی چھاگلہ نے ترتیب دی۔جبکہ ترانے کے بول حفیظ جالندھری نے تخلیق کیے۔قومی ترانے سے قبل پاکستان زندہ باد بطور قومی ترانہ استعمال ہوا کرتا تھا۔