ایلون مسک نے یوکرین کے ڈرونز کے لیے اسٹارشیلڈ سروس محدود کرنے کا حکم دیا، امریکی میڈیا کا دعویٰ

ایلون مسک نے یوکرین کے ڈرونز کے لیے اسٹارشیلڈ سروس محدود کرنے کا حکم دیا، امریکی میڈیا کا دعویٰ

امریکی ٹیکنالوجی ارب پتی ایلون مسک کی جانب سے یوکرین کے لیے سیٹلائٹ مواصلاتی نظام اسٹارشیلڈ کی خدمات محدود کیے جانے کے باعث یوکرین کے بعض ڈرونز کی کارروائیاں متاثر ہونے کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔

 امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق اس اقدام سے یوکرینی ڈرونز کی نظام تک رسائی اور آپریشنل صلاحیت متاثر ہوئی۔رپورٹ میں نام ظاہر نہ کرنے والے امریکی حکام اور معاملے سے واقف افراد کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایلون مسک نے یوکرینی آلات کو اسٹارشیلڈ سے منسلک ہونے کی رفتار محدود کرنے کا حکم دیا تھا، جس کے نتیجے میں بعض ڈرونز ناکارہ ہو گئے یا اپنی کارروائیاں مؤثر انداز میں انجام نہ دے سکے۔یوکرین روسی حملوں کے خلاف دفاعی کارروائیوں میں اس سیٹلائٹ مواصلاتی نظام کو اہمیت دیتا ہے، کیونکہ یہ میدانِ جنگ میں رابطوں اور ڈرون آپریشنز کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

اسٹارشیلڈ کی پابندیوں پر امریکی حکام کے متضاد بیانات
اس معاملے پر امریکی حکام کے بیانات میں اختلاف سامنے آیا ہے۔ یوکرین کی جانب سے الزام عائد کیا گیا تھا کہ واشنگٹن نے جان بوجھ کر اسٹارشیلڈ سروس کی رفتار محدود کی، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے ایسی پابندیاں عائد کرنے کی درخواست نہیں کی۔ایلون مسک بھی پہلے یہ مؤقف اختیار کر چکے ہیں کہ اسٹارشیلڈ کی رفتار یا استعمال سے متعلق پابندیوں کا فیصلہ امریکی فوج کرتی ہے اور حتمی اختیار صدر کے پاس ہوتا ہے۔دوسری جانب امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے بھارت کے دورے کے دوران کہا کہ واشنگٹن کو سروس محدود کیے جانے کے فیصلے کا پہلے سے علم نہیں تھا۔ ان کے مطابق اسٹارشیلڈ ایک نجی کمپنی کی فراہم کردہ سروس ہے اور امریکی صدر کمپنی کو براہِ راست ہدایات نہیں دیتے۔

پینٹاگون نے اسٹارشیلڈ سروس میں تبدیلی کی ہدایت دینے سے انکار کر دیا
امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے بھی منگل کو واضح کیا کہ پینٹاگون نے اسٹارشیلڈ کے نظام میں کسی قسم کی تبدیلی کی ہدایت نہیں دی اور نہ ہی سروس واپس لینے کا کوئی حکم جاری کیا گیا۔امریکی حکام کے ان بیانات کے بعد یہ سوال پیدا ہو گیا ہے کہ اگر یوکرین میں اسٹارشیلڈ کی خدمات محدود کی گئیں تو اس فیصلے کے پیچھے کون تھا اور یہ اقدام کس سطح پر کیا گیا۔

ٹرمپ کے یوکرین سے متعلق بیان کے بعد پیش رفت
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق یوکرین نے گزشتہ ہفتے اسٹارشیلڈ سروس پر پابندیوں کی اطلاع دی تھی۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین پر تنقید کرتے ہوئے اسے روسی آئل ریفائنریوں کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں روکنے پر زور دیا تھا۔اسٹارشیلڈ کی خدمات محدود کیے جانے سے متعلق رپورٹ نے یوکرین کی جنگ میں نجی سیٹلائٹ مواصلاتی نظام کی اہمیت اور ان خدمات پر انحصار کے معاملے کو دوبارہ توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ تاہم، امریکی حکام کے متضاد بیانات کے باعث اس اقدام کی ذمہ داری اور اس کے پس منظر سے متعلق صورتِ حال واضح نہیں ہو سکی۔