ویب ڈیسک:افغانستان کے صوبے بغلان میں واقع ایک صوفی درگاہ پر مسلح شخص نے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں 10 افراد شہید اور متعدد زخمی ہو گئے۔
طالبان کی وزارت داخلہ نے اس بات کی تصدیق کی کہ حملہ ضلع نہرین کے ایک صوفی بزرگ کی درگاہ پر ہفتہ وار تقریب کے دوران کیا گیا تھا، جہاں عشا کی نماز کے دوران ایک حملہ آور نے اندھا دھند فائرنگ کی۔حملہ سید پاچا آغا کے مزار پر ہوا، جہاں درجنوں نمازی موجود تھے۔ حملے کے بعد شہید اور زخمی افراد کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں 10 افراد کی شہادت کی تصدیق ہو گئی۔ طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے افغانستان میں امام بارگاہوں، درگاہوں اور سیکیورٹی اہلکاروں پر حملے مسلسل جاری ہیں، اور حالیہ حملے میں بھی داعش خراسان کے ملوث ہونے کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں، جیسا کہ اس سے قبل بھی داعش خراسان امام بارگاہوں اور مزاروں پر حملوں کی ذمہ داری قبول کرتی آئی ہے۔یہ حملہ افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد درگاہوں اور مذہبی مقامات پر ہونے والے حملوں کا ایک اور واقعہ ہے۔ گزشتہ ستمبر میں وسطی افغانستان میں ہونے والے ایک حملے میں 14 افراد ہلاک ہوئے تھے، جس کی ذمہ داری بھی داعش خراسان نے قبول کی تھی۔