اسلام آباد کی اسپیشل جج سینٹرل شاہ رخ ارجمند نے توشہ خانہ ٹو کیس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی کا حکم جاری کر دیا ہے۔
عدالت نے عمران خان کی ضمانت کے حوالے سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کی توثیق کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ ان کی ضمانت ہائی کورٹ سے منظور ہو چکی ہے اور وہ کسی دیگر مقدمے میں مطلوب نہیں ہیں، اس لیے انہیں رہا کیا جائے۔عمران خان کی ضمانت کے لیے 10 لاکھ روپے کے دو مچلکے عدالت میں جمع کرائے گئے، جنہیں طارق نون اور راجہ غلام سجاد نے جمع کیا۔ اس حوالے سے عدالت نے عمران خان کی رہائی کی روبکار بھی جاری کر دی، جس کے بعد سابق وزیراعظم کی رہائی کا عمل شروع ہو گیا۔
یاد رہے کہ 21 نومبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے توشہ خانہ ٹو کیس میں عمران خان کی ضمانت منظور کی تھی۔ ہائی کورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کی سربراہی میں بنچ نے ضمانت کی درخواست پر سماعت کی تھی۔ عدالت نے عمران خان کو 10 لاکھ روپے کے دو مچلکوں کے عوض ضمانت دی تھی، جس کے بعد ان کی رہائی کے امکانات مزید بڑھ گئے تھے۔عمران خان کے وکلا نے ضمانت کے لیے دلائل دیے تھے کہ ان کے موکل کے خلاف کیس کی نوعیت زیادہ سنگین نہیں اور ان کی گرفتاری غیر ضروری ہے۔ ہائی کورٹ نے ان دلائل کو تسلیم کرتے ہوئے ضمانت منظور کر لی تھی۔
توشہ خانہ ٹو کیس میں عمران خان کے خلاف الزامات یہ ہیں کہ انہوں نے توشہ خانہ سے تحفے لینے کے باوجود ان کی قیمتوں کا اعلان نہیں کیا اور غیر قانونی طور پر ان تحفوں کو فروخت کیا، جو کہ قواعد کے خلاف ہے۔ اس کیس میں ان کے خلاف انسدادِ بدعنوانی کی دفعات کے تحت تحقیقات جاری تھیں۔اب عدالت کی جانب سے رہائی کے حکم کے بعد، عمران خان کے حامیوں اور سیاسی حلقوں میں ان کی فوری رہائی کی توقعات بڑھ گئی ہیں، لیکن انہیں دیگر مقدمات میں بھی پیش ہونا ہے، جس کے لیے مختلف عدالتوں میں ان کے خلاف مقدمات زیرِ سماعت ہیں۔